Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 130

By Maulana Wahiduddin Khan

عمومی شفقت ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری میں بھی وہ کئی باب کے تحت نقل کی گئی ہے۔ باب رحمة الناس والبهائم (انسانوں اور حیوانات کے ساتھ رحمت) کے تحت وہ روایت اس طرح بیان ہوئی ہے : ایک شخص کسی راستہ میں چل رہا تھا۔ اس کو سخت پیاس لگی۔ پھر اس نے ایک کنواں دیکھا۔ وہ اس میں اترا اور اس سے پانی پیا۔ پھر نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک کتا ہے جو ہانپ رہا ہے اور پیاس کی وجہ سے ترمٹی کو کھا رہا ہے۔ آدمی نے کہا کہ یہ کتا بھی اسی حالت سے دوچار ہے جس حالت سے میں دوچار تھا۔ پھر وہ آدمی دوبارہ کنواں میں اترا اور اپنے خف کو پانی سے بھرا پھر اس کو منہ سے پکڑ کر باہر لایا اور کتے کو پانی پلایا۔ تو اللہ نے اس کے اس عمل کو قبول کر لیا اور اس کو بخش دیا۔ لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول ! کیا ہمارے لیے حیوانات میں بھی اجر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں، ہر ذی روح میں تمہارے لیے اجر ہے (فتح الباری ۴۵۲/۱۰) آدمی کے جسم کو جب پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو فطرت اس کو اندر سے پیاس کا احساس دلاتی ہے تاکہ وہ پانی حاصل کرے اور جسم میں پانی پہنچا کر اس کی ضرورت پوری کرے۔ یہی معاملہ بھوک لگنے یا ٹھنڈک محسوس ہونے کا ہے۔ یہ گویا فطرت کی پکار ہے جو آدمی کو بتاتی ہے کہ وہ کھانا کھا کر یا گرم کپڑا اوڑھ کر اپنے جسم کی ضرورت پوری کرے۔ یہ احساسات حیوان کے اندر بھی ہیں۔ مگر حیوانات صرف اپنی ذات کی حد تک ان احساسات کی تحمیل سے واقف ہیں۔ مگر انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ان احساسات کی توسیع کرے۔ وہ جس طرح اپنی ضرورت کو محسوس کرکے اس کو پورا کرنے کا انتظام کرتا ہے، اسی طرح وہ دوسرے انسانوں اور حیوانات کی ضرورت کو بھی جانے ، اور ہر ضرورت مند کی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کرے۔ اپنی ضرورت کو پورا کرنا نہ صرف اپنے فطری تقاضے کو پورا کرنا ہے۔ مگر دوسرے کی ضرورت کو پورا کرنا ایک عبادت ہے اور اعلیٰ ترین انسانی شرف۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page