Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

پڑوسی کا حق اسلام میں پڑوسی کا حق ادا کرنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے ، اس کو چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ عزت و احترام کا معاملہ کرے (من کان یؤمن باللہ ... ذلیکم جان) ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ وہ شخص مومن نہیں ہے جس کی ایذاؤں سے اس کا پڑوسی امن میں نہ ہو (لا یؤمن... انڈی لا یامن جارہ بوائقه) کسی انسان کا سب سے پہلا سابقہ اس کے پڑوسی سے پڑتا ہے۔ اس لیے کسی انسان کی سب سے پہلی آزمائش بھی اس کے پڑوسی کے معاملہ میں ہوتی ہے۔ کوئی انسان اگر برا ہے تو اس کے پڑوسیوں سے اس کے تعلقات بھی برے ہوں گے۔ اور اگر کوئی انسان اچھا ہے تو اس کے پڑوسیوں سے اس کے تعلقات بھی اچھے ہوں گے۔ کسی آدمی کی انسانیت کی پہچان یہ نہیں ہے کہ اس کا معاملہ دور کے لوگوں کے ساتھ کیسا ہے۔ بلکہ اس کی انسانیت کی اصل پہچان یہ ہے کہ اپنے قریب کے لوگوں کے ساتھ وہ کیسا برتاؤ کرتا ہے۔ اور اس معاملہ میں پڑوسی بلا شبہ کسی آدمی کا سب سے پہلا قریبی انسان ہے۔ قریب ہونے کی وجہ سے آپ کے ہر عمل کا اثر پڑوسی تک پہنچتا ہے۔ اگر آپ اپنے گھر میں شور کریں تو پڑوسی کے کان تک اس کی آواز پہنچے گی۔ اگر آپ اپنے دروازہ پر دھواں کریں تو آپ کا دھواں بھی پڑوسی کے گھر میں داخل ہوگا۔ اگر آپ اپنے گھر کا کچرا باہر پھینکیں تو اس کا بھی تلخ تجربہ آپ کے پڑوسی کو بھگتنا ہوگا۔ اس طرح آپ کے ہر اچھے یا برے عمل کا اثر پڑوسی تک پہنچتا رہتا ہے۔ وہ آپ کے پھول کا بھی تجربہ کرتا ہے اور آپ کے کانٹے کا بھی۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ پڑوسی کے معاملہ میں بے حد محتاط رہے۔ وہ پڑوس کے لوگوں کا اسی طرح پاس و لحاظ کرے جس طرح وہ خود اپنے گھر والوں کا پاس و لحاظ کرتا ہے۔ درخت کا پڑوسی درخت کے سایہ سے محروم نہیں رہ سکتا، اسی طرح ایک حقیقی انسان کے فیض سے اس کے پڑوسی کا محروم رہنا ممکن نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page