Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

عمومی خیر خواہی حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان الدين النصيحة ، ان الدين النصيحة ، ان الدين النصيحة “ قالوا لمن يا رسول الله ؟ قال لله وكتابه ورسوله وا ائمة المؤمنين وعامتهم، وا ائمة المسلمين وعامتهم (سنن ابی داؤد ۴ / ۲۸۸) یعنی آپ نے فرمایا کہ دین خیر خواہی ہے، دین خیر خواہی ہے، دین خیر خواہی ہے۔ لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول کس کے لیے۔ آپ نے فرمایا اللہ کے لیے اور اس کی کتاب کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور مومنین کے امیر کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے اور مسلمین کے امیر کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے۔ کسی آدمی کے سینہ میں حقیقی دین آنے کے بعد اس کے اندر لازمی طور پر انسانی خیر خواہی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ، ٹھیک اسی طرح جس طرح پانی میں شکر ڈالنے کے بعد پانی کے اندر مٹھاس کا ذائقہ پیدا ہو جاتا ہے۔ جس آدمی کے اندر دین ہوگا، اس کے اندر لازمی طور پر خیر خواہی بھی موجود ہوگی۔ جو دل انسانی خیر خواہی سے خالی ہو، یقینی طور پر وہ دین سے بھی خالی ہوگا۔ اس خیر خواہی کے بے شمار پہلو ہیں۔ آپ جب کسی کو غلط بات بولتے ہوئے یا غلط کام کرتے ہوئے دیکھیں تو اس وقت خیر خواہی یہ ہوگی کہ اس کے پاس پہنچ کر نرمی اور شفقت کے انداز میں اس کو سمجھایا جائے ۔ پر سوز کلام اور سنجید دلائل کے ذریعہ یہ کوشش کی جائے کہ وہ اپنے قول و فعل کو درست کرلے اور غلط روش سے باز آئے۔ ایک انسان وہ ہے جو دوسروں کو اس نظر سے دیکھے کہ وہ ان سے اپنے لیے کیا فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ ایسا انسان خدا کا مطلوب انسان نہیں۔ وہ فطرت کے نقشہ میں بے جگہ ہے، وہ اس امتحان میں ناکام ہو گیا جس کے لیے خدا نے اس کو موجودہ دنیا میں رکھا تھا۔ دوسرا انسان وہ ہے جو لوگوں کو اس نظر سے دیکھے کہ وہ انہیں کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ ایسے انسان کی تسکین اس میں ہوگی کہ وہ کسی پہلو سے دوسروں کے کام آسکے، اس کی ذات سے دوسروں کو فائدہ حاصل ہو جائے۔ یہی وہ انسان ہے جو خدائی آزمائش میں کامیاب اترا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page