Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

تکلیف دور کرنا حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : الایمان بضع وسبعون شعبة ، فافضلها قول لا اله الا الله، وادناها، اماطة الاذی عن الطریق، والحياء شعبة من الایمان (یعنی ایمان کے ستر سے زیادہ شعبے ہیں، اس کا سب سے افضل شعبہ یہ کہنا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور اس کا ادنی درجہ راستہ سے تکلیف کی چیز کو ہٹا دینا ہے۔ اور حیا بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے) مشکواۃ المصابیح ۱۰/۱ ایمان آدمی کے اندر جو مزاج پیدا کرتا ہے اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ ایسے آدمی کے اندر دوسروں کی مدد کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے یہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ وہ کسی کو مصیبت میں دیکھے اور وہ اس کی مدد نہ کرے۔ یہاں تک کہ اگر وہ راستہ میں کوئی پتھر یا کانٹے جیسی چیز دیکھتا ہے تو راستہ سے ہٹائے بغیر اس کو چین نہیں آتا۔ کیوں کہ ایسی حالت میں یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص اس راستہ سے گزرے اور اس کو تکلیف پہنچ جائے۔ زندگی کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی صرف اپنے بارے میں سوچے، اس کو صرف اپنے آرام اور تکلیف کی فکر ہو۔ اس کا اپنا معاملہ درست ہو جائے تو اس کے بعد اس کو کسی اور کی پروا باقی نہ رہے۔ مگر ایسا انسان حقیقی انسان نہیں وہ اس انسانی شرافت سے خالی ہے جو فطرت کے اعتبار سے اس سے مطلوب ہے۔ حقیقی انسان وہ ہے جو دوسروں کی تکلیف پر بھی اسی طرح تڑپے جس طرح وہ اپنی تکلیف پر تڑپتا ہے۔ وہ دوسروں کی مصیبت کو دور کرنے کے لیے بھی اسی طرح آمادہ رہتا ہو جس طرح وہ اپنی مصیبت کو دور کرنے کے لیے سرگرم ہو جاتا ہے۔ وہ دوسروں کے معاملہ کو اپنا معاملہ سمجھے۔ وہ دوسروں کو خوش دیکھ کر خوش ہوتا ہو اور وہ دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر درد مند ہو جائے۔ انسان اور پتھر میں جو چیز فرق کرتی ہے وہ حساسیت ہے۔ پتھر بے حس ہوتا ہے اور انسان حساس۔ انسان اگر حساسیت کھودے تو اس میں اور پتھر میں کوئی فرق باقی نہیں رہے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page