دین رحمت
Urdu book, p. 134
By Maulana Wahiduddin Khan
خرچ سے اضافہ ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر روز جب کہ بندے صبح کرتے ہیں تو آسمان سے دو فرشتے اترتے ہیں۔ ان دونوں میں سے ایک کہتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدل دے۔ اور دوسرا فرشتہ کہتا ہے کہ اے اللہ! مال روکنے والے کا مال ضائع کر دے: ما من يوم يصبح العباد فيه الا ملكان ينزلان فيقول احدهما: اللهم اعط منفقا خلفا ويقول الآخر اللهم اعط ممسكا تلفا (فتح الباری ۳۵۰/۳) اس حدیث میں دراصل فطرت کا وہ نظام بتایا گیا ہے جس کے مطابق، خدا نے اس دنیا کو بنایا ہے۔ اس دنیا میں کامیابی اس کے لیے ہے جو نظام فطرت سے مطابقت کرے۔ جو اس فطری نظام سے مطابقت کے لیے تیار نہ ہو، اس کے لیے اس دنیا میں ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں۔ خدا کا بنایا ہوا وہ فطری نقشہ یہ ہے کہ اس دنیا میں جو آدمی اپنے کمائے ہوئے مال کو ذاتی ملکیت نہ سمجھ لے بلکہ اس میں سے دوسروں کو بھی دے تاکہ وہ بھی اپنی ضرورت پوری کر سکیں ، ایسے افراد والا سماج خوب فروغ پائے گا۔ اس کے اندر مثبت قدریں ہر طرف پھیلیں گی۔ ایسے لوگوں کے ذریعہ جو سماج بنے گا وہ گویا ایک ہرا بھرا باغ ہوگا۔ وہاں کے انسانوں میں پھول کی مہک اور پھل کی مٹھاس ہوگی۔ اس طرح کے سماج میں ہر ایک کو اس کا حصہ مل رہا ہوگا۔ وہاں دینے والے کو بھی اس کا دیا ہوا مختلف صورتوں میں اس کی طرف لوٹ رہا ہوگا ، کبھی براہ راست انداز میں اور کبھی بالواسطہ انداز میں۔ اس کے برعکس معاملہ اس سماج کا ہے جہاں ہر مال والا اپنے مال کو خود اپنے ہی پاس روک کر رکھے۔ ایسے سماج میں لوگ ایک دوسرے سے بے تعلق ہوں گے۔ وہاں کا حال یہ ہوگا کہ جس کو نہیں ملا ہے وہ اس پر حسد کرے گا جس کو ملا ہوا ہے۔ وہاں ہر مال والا صرف اپنی ذات کے دائرہ میں جی رہا ہوگا ، سماج کا مجموعی اعتماد اس کو حاصل نہ ہوگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایسا سماج کانٹوں سے بھری ہوئی جھاڑی کی مانند بن جائے گا۔ وہاں مال والے لوگ بھی اسی طرح سکون اور چین سے محروم ہوں گے جس طرح کہ بے مال والے لوگ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader