دین رحمت
Urdu book, p. 135
By Maulana Wahiduddin Khan
برتر ہاتھ ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مال بڑا سر سبز اور شیریں ہے۔ جو اس کو سچی دل کے ساتھ لے تو اس کے لیے وہ برکت کا ذریعہ ہوگا۔ اور جس نے اس کو حرص کے جذبے کے تحت لیا تو اس میں اس کے لیے برکت نہیں ہوگی۔ اور وہ اس آدمی کی طرح ہو گا جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا۔ اور اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے : إن هذا المال خضر حلو، فمن اخذه بسخاوة نفس بورك له فيه، ومن اخذه باشراف نفس لم يبارك له فيه، وكان كالذي يأكل ولا يشبع، واليد العليا خير من اليد السفلى (فتح الباری ۴۲۵/۵) اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پانے والے کے مقابلے میں دینے والے کا درجہ زیادہ ہے۔ اسلام ہر آدمی کے اندر یہ اسپرٹ ابھارتا ہے کہ وہ جس سماج میں ہو وہاں وہ اس طرح رہے کہ اس کے ذریعہ سے دوسروں کو کچھ نہ کچھ مل رہا ہو۔ دوسروں سے لے کر جینے کا طریقہ اسلام میں پسندیدہ نہیں۔ یہ دینا اور لینا کوئی سادہ بات نہیں، اس کا تعلق پوری اخلاقیات سے جڑا ہوا ہے۔ جس سماج میں لوگوں کے اندر دینے کا مزاج ہو وہاں مثبت اخلاقیات کو فروغ حاصل ہوگا۔ ایسے ماحول میں باہمی محبت ، ایک دوسرے کی رعایت ، سماجی خدمت ، آپس میں خیر خواہی ، آپس میں برادرانہ تعلقات جیسی قدروں کا فروغ حاصل ہوگا۔ پورا سماج ایک خاندان کی مانند بن جائے گا جہاں کوئی کسی کو غیر نہ سمجھے بلکہ ہر ایک دوسرے کو اپنے قریبی کی نظر سے دیکھنے لگے۔ اس کے برعکس جس سماج میں لینے اور صرف اپنے لیے سمیٹنے کا مزاج ہو وہاں منفی اخلاقیات کو فروغ حاصل ہوگا۔ ایسے سماج میں لوگ غیروں اور اجنبیوں کی طرح رہیں گے۔ وہاں باہمی اعتماد کی فضا نہ ہوگی۔ وہاں انسانی خیر خواہی کے بجائے حیوانی خود غرضی کا دور دورہ ہوگا۔ مطلوب انسانی سماج وہ ہے جس کے افراد میں دینے کی اسپرٹ پائی جائے جس سماج کے افراد میں صرف لینے کا جذبہ ہو وہ فطرت کے نقشہ کے خلاف ہے۔ ایسا سماج کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader