دین رحمت
Urdu book, p. 136
By Maulana Wahiduddin Khan
فطرت کا نظام فطرت کا نظام بے اجرت نفع بخشی کے اصول پر قائم ہے۔ اس دنیا میں ہر چیز دوسروں کو فائدہ پہنچارہی ہے، بغیر اس کے کہ وہ دوسروں سے اس کی کوئی قیمت وصول کرے، بغیر اس کے کہ وہ دوسروں کے اوپر اس کا کوئی اظہار کرے، یہاں فرائض کی انجام دہی ہے مگر حقوق کا کوئی مطالبہ نہیں، یہاں دوسروں کی رعایت کرنا ہے مگر اپنی بڑائی کا کوئی مظاہرہ نہیں۔ سورج ساری دنیا کو مسلسل روشنی اور حرارت دے رہا ہے، مگر اس کی یہ تمام خدمت مکمل طور پر یک طرفہ ہے نہ کہ دو طرفہ۔ ہوا زمین کے ہر گوشہ میں ہر لمحہ آکسیجن پلائی کر رہی ہے جس پر زندگیوں کا انحصار ہے، مگر اس نے کبھی اپنا کوئی بل پیش نہیں کیا۔ پانی کا نظام عالمی سطح پر قائم ہے جس کے بغیر زندگی کا وجود ممکن نہیں، مگر یہ سب کچھ کسی معاوضہ کے بغیر ہو رہا ہے۔ درخت سایہ اور پھول اور پھل دیتے ہیں، مگر وہ اس کی کوئی قیمت نہیں مانگتے۔ زمین ہر قسم کی مفید فصل اگاتی ہے جو انسان اور حیوان کے لیے جینے کا سہارا ہے، مگر زمین اپنا یہ سارا کام خدمت گزاری کے اصول پر کرتی ہے نہ کہ اجرت طلبی کے اصول پر۔ چڑیاں ہماری فضاؤں میں ہر طرف پر کشش نغمے بکھیر رہی ہیں، مگر وہ ہم سے کسی تعریف و ستائش کی امید نہیں رکھتیں۔ انسان بھی اسی عالم فطرت کا ایک حصہ ہے، انسان کو بھی وہی طریقہ اختیار کرنا ہے جو بقیہ دنیا کی تمام چیزیں وسیع پیمانہ پر اختیار کیے ہوئے ہیں۔ زندگی کا کوئی بھی دوسرا طریقہ اس دنیا میں نہ ممکن ہے اور نہ مطلوب۔ انسان ایک سماجی حیوان ہے، وہ ہمیشہ بہت سے لوگوں کے درمیان رہتا ہے، بار بار اس کا سابقہ دوسرے انسانوں سے پڑتا ہے۔ اب انسان کے لیے صحیح اور فطری طریقہ صرف یہ ہے کہ جب کبھی اس کا سابقہ دوسرے انسانوں سے پیش آئے تو ہر ایک کو دوسرے سے کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچے۔ دو انسانوں کا ملنا دو پتھروں کا ملنا نہ بنے، بلکہ وہ دو ایسی ہستیوں کا ملنا بنے جن میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے رحمت و نعمت کا نمونہ بن جائے۔ فطرت بہترین گائیڈ ہے، بشرطیکہ اس میں خلل نہ ڈالا جائے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader