Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 137

By Maulana Wahiduddin Khan

کائنا تی اخلاق کائنات انسانی اخلاقیات کا ماڈل ہے۔ ہمارے پیدا کرنے والے کو ہم سے جو اخلاقی رویہ مطلوب ہے اس کو اس نے کائنات میں وسیع پیمانہ پر انتہائی معیاری انداز میں قائم کر رکھا ہے تاکہ انسان اس کو دیکھ کر نصیحت لے اور اس اخلاقی روش کو اپنی زندگی میں اپنا لے۔ آسمان اپنی بے پناہ وسعتوں کے باوجود مکمل طور پر خاموش ہے۔ اس طرح وہ انسان کو بتا رہا ہے کہ بولنے سے زیادہ چپ رہنے والے بنو، بتانے سے زیادہ سیکھنے والے بنو۔ تمہیں خواہ کتنی ہی زیادہ عظمت حاصل ہو جائے مگر تم اس طرح رہو جیسے تمہیں کوئی عظمت حاصل نہیں۔ سورج روشنی اور حرارت کا اتھاہ خزانہ ہے۔ وہ ہر آن زمین کو روشنی اور حرارت سپلائی کر رہا ہے۔ مگر وہ کسی سے اس کی قیمت نہیں مانگتا۔ یہ اس بات کا سبق ہے کہ انسان یک طرفہ طور پر فائدہ پہنچانے والا بنے۔ وہ لوگوں کو دیتا ہے خواہ اسے اس کی کوئی قیمت نہ مل رہی ہو۔ ہوا ہر آن سرگرم ہے۔ وہ ہر تنگ اور کشادہ جگہ سے گزر رہی ہے مگر وہ کسی سے ٹکراتی نہیں۔ اس طرح وہ پیغام دے رہی ہے کہ اے انسان تم اپنی سرگرمیوں کو اس طرح منظم کرو کہ دوسروں کے ساتھ تمہارا ٹکراؤ پیش نہ آئے۔ تمہاری سرگرمیاں دوسروں کے لئے کوئی مسئلہ پیدا کرنے والی نہ ہوں۔ درخت زمین سے ایک پودے کی صورت میں نکلتا ہے اور پھر بڑا ہو کر پورا درخت بن جاتا ہے۔ اس سے لوگوں کو سایہ، ہریالی، پھول اور پھل اور دوسری چیزیں ملتی ہیں۔ وہ مٹی اور پانی جیسی چیزوں کو اپنی غذا بنا کر اس کو ایک ہرے بھرے درخت کی صورت میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اس طرح وہ بتا رہا ہے کہ انسان کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ غصہ کو معافی میں تبدیل کرے۔ وہ منفی جذبات کو مثبت جذبات کی طرف موڑ دے۔ اس کو کسی کی طرف سے برائی کا تجربہ ہو تب بھی وہ اس کی طرف بھلائی کا تحفہ لوٹائے۔ یہ ہے انسانی اخلاقیات کا وہ ماڈل جس کا مظاہرہ کائنات میں ہر آن کیا جا رہا ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ بھی اس کاتنائی نمونہ کو اختیار کرے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page