Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 138

By Maulana Wahiduddin Khan

حسن ظن حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا کہ اچھا گمان کرتا اچھی عبادت میں سے ہے (حسن الظن من حسن العبادة) مشکوة المصابیح ۱۲۰۳۔ دنیا کی زندگی میں بار بار ایسے مواقع آتے ہیں کہ آدمی دوسرے کے بارے میں بدگمان ہو جائے۔ یہ بدگمانی کبھی اس لئے ہوتی ہے کہ آدمی مذکورہ شخص کے بارے میں پہلے سے تعصب کا شکار ہوتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیتا ہے کہ یہ آدمی ایک برا آدمی ہے، اس لئے اس سے یہی توقع ہے کہ وہ غلط بات کرے یا غلط کام میں ملوث ہو۔ بدگمانی کی دوسری بڑی وجہ معلومات کی کمی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی دوسرے کے حالات سے پوری طرح واقف نہیں ہوتا۔ اس کے سامنے صرف ناقص معلومات ہوتی ہیں۔ ان ناقص معلومات کی بنا پر وہ معاملہ کو صحیح رخ کے ساتھ نہیں دیکھ پاتا اور غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے۔ زندگی کی اس صورت حال نے رائے قائم کرنے کے معاملہ کو ایک مشکل معاملہ بنا دیا ہے۔ ہر آدمی اس نازک صورت حال میں مبتلا ہے کہ اگر وہ اپنی ذہنی پیچیدگیوں کا شکار ہو یا ناقص معلومات کی بنیاد پر رائے قائم کرے تو وہ اپنے بھائی کے ساتھ سخت ناانصافی کرے گا۔ ایسی حالت میں ہر آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ ایک طرف اپنے آپ کو متعصبانہ فکر سے خالی کرے اور دوسری طرف رائے قائم کرنے سے پہلے معاملہ سے متعلق پوری واقفیت حاصل کرے۔ اس چیز نے کسی کے بارے میں اچھی رائے قائم کرنے کے معاملہ کو ایک جہاد کا معاملہ بنا دیا ہے۔ یہاں حسن ظن کے لئے ایک جہادی عمل درکار ہے۔ حسن ظن کے اسی پہلو نے حسن ظن کو ایک اعلیٰ عبادت بنا دیا ہے۔ حسن ظن کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ کسی کے بارے میں برے خیالات کو اپنے ذہن سے نکال کر اس کے بجائے اچھے خیالات کو اپنے ذہن میں جگہ دینا ہے۔ یہ ایک داخلی جہاد ہے اسی لئے اس کا بہت بڑا ثواب اسلام میں رکھا گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page