Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 139

By Maulana Wahiduddin Khan

حسن معاملہ قرآن میں نکاح و طلاق کے مسائل بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ طلاق دو بار ہے۔ اس کے بعد یا تو خوش اسلوبی کے ساتھ رکھنا ہے یا خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کر دینا (البقرہ ۲۲۹)۔ ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے اس آیت کا تعلق نکاح و طلاق کے مسئلہ سے ہے مگر اپنے وسیع تر مفہوم کے اعتبار سے اس کا تعلق پوری زندگی سے ہو جاتا ہے۔ انسان ایک سماجی مخلوق ہے۔ اس بنا پر موجودہ دنیا میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ دو انسان یا زیادہ انسان باہم اکٹھے ہوتے ہیں۔ کبھی وقتی طور پر اور کبھی لمبی مدت کے لئے۔ ایسے حالات میں اسلام کا حکم یہ ہے کہ مل کر رہنے کی مدت کو بھی اچھے انداز میں گزارا جائے اور علیحدگی کے بعد بھی اس کو اچھے انداز میں بتایا جائے۔ جب کبھی دو یا زیادہ آدمی باہم مل کر رہتے ہیں تو لازمی طور پر ان کے درمیان شکایت اور اختلاف کے مواقع بھی آتے ہیں۔ اس دنیا میں بے شکایت قسم کی اجتماعی زندگی ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں کسی کو یہ نہیں کرنا چاہئے کہ جب تک وہ ساتھ رہ رہا ہو اس وقت تک تو حالات کے دباؤ کی بنا پر بظاہر خوش اسلوبی کے ساتھ نبھائے مگر جب وہ جدا ہو تو اپنی جدائی کو معقول ثابت کرنے کے لئے واقعی یا غیر واقعی شکایتیں ادھر ادھر بیان کرنے لگے۔ ہر آدمی اپنے آپ کو سماج میں باعزت دیکھنا چاہتا ہے۔ اس بنا پر شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ اسی کوشش میں رہتا ہے کہ جن لوگوں کا ساتھ اس نے چھوڑا ہے ان کی ایسی بری تصویر بنائے کہ لوگ یہ محسوس کرنے لگیں کہ وہ لوگ اسی قابل تھے کہ ان کا ساتھ چھوڑ دیا جائے۔ مگر اس قسم کی ہر کوشش گناہ ہے۔ خواہ وہ واقعہ کے مطابق ہو یا واقعہ کے خلاف۔ مومن وہ ہے جو اس وقت بھی درست بات کہے جب کہ وہ کسی سے راضی ہو اور اس وقت بھی اس کے منہ سے درست بات نکلے جب کہ اس کے اور فریق ثانی کے درمیان ناراضی کی صورت پیدا ہو گئی ہو۔ مومن وہ ہے جو ہر حال میں حسن معاملہ کا ثبوت دے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page