Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 140

By Maulana Wahiduddin Khan

مال کی پاکی قرآن میں خدا پرست انسان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ۔۔۔ جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ وہ پاکی حاصل کرے اور اس پر کسی کا احسان نہیں جس کا بدلہ اسے دینا ہو۔ مگر صرف اپنے خدائے برتر کی خوشنودی کے لئے اور عنقریب وہ خوش ہو جائے گا۔ (اللیل ۱۸-۲۱) اسلام میں اس بات کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے کہ آدمی اپنی کمائی کو صرف اپنے لئے خاص نہ کرے بلکہ اس میں سے دوسروں کو بھی دے۔ اپنے کمائے ہوئے مال کو صرف اپنے اوپر خرچ کرنا اور اس میں سے خدا کا اور انسان کا حصہ نہ نکالنا اسلام میں سخت گناہ ہے۔ کوئی شخص اگر اپنا مال دوسرے کو اس لئے دے کہ اس نے اس کے اوپر احسان کیا تھا تو یہ دینا اگرچہ کوئی برائی نہیں مگر صرف اس قسم کے عطیہ سے اسلامی تعلیم کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ احسان اتارنے کے لئے یا کسی اور جوابی فائدہ کے لئے دینے سے وہ مقصد حاصل نہیں ہوتا جس کے لئے اسلام میں اپنا مال دوسروں پر خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کوئی آدمی جب اپنے مال کا ایک حصہ دوسرے کو دیتا ہے تو بظاہر وہ ایک غیر شخص کی ضرورت پوری کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ مگر اسلام کے مطابق اسکا اصل مقصد خود دینے والے کی اپنی اصلاح ہے۔ اس طرح وہ اپنے دل کو اور اپنی روح کو پاک کرتا ہے۔ مال کے ساتھ کئی اخلاقی برائیاں جڑی ہوئی ہیں۔ مثلاً بخل، طمع، اور احساس برتری وغیرہ۔ کوئی مال والا جب اپنے مال کو اللہ کے حکم کی بنا پر دوسروں کو دیتا ہے تو وہ ان برائیوں کو اپنے اندر سے نکالتا ہے۔ مال کو صرف اپنے لئے خاص کرنا گویا ان برائیوں کو اپنے اندر پرورش کرنا ہے۔ اور مال میں سے دوسروں کو دینا گویا اپنے آپ کو دھو کر ان برائیوں سے پاک کرنا ہے۔ آدمی جب بلا معاوضہ اپنا مال دوسروں کو دیتا ہے تو وہ اپنے اندر، بخل کے جذبات کو کچلتا ہے۔ وہ مال سے محبت کا تعلق توڑتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو یہ سبق دیتا ہے کہ مال ضرورت کے لئے ہے نہ کہ عزت اور شان بڑھانے کے لئے۔ مال کا دینا بھیک وقت پانے والے کے لئے بھی مفید ہے اور دینے والے کے لئے بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page