دین رحمت
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
نفسیاتی پیچیدگی سے پاک حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس دوران ایک آدمی سامنے سے گزرا۔ آپ نے اس کو دیکھ کر کہا کہ یہ شخص جنتی ہے۔ جو لوگ وہاں بیٹھے ہوئے تھے ان میں سے ایک صاحب بتاتے ہیں کہ میرے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ شخص کون سا عمل کرتا ہے جس کی وجہ سے پیغمبر اسلام نے اس کو جنتی بتایا۔ چنانچہ وہ اس آدمی کے گھر گئے، انہوں نے اس سے اجازت لے کر تین دن تک اس کے یہاں قیام کیا۔ تیسرے دن جب وہ وہاں سے جانے لگے تو اس آدمی نے پوچھا کہ آپ کس لئے یہاں آئے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا مذکورہ واقعہ بتایا اور کہا کہ میں تین دن تک تم کو دیکھتا رہا۔ مگر میں نے تمہارے اندر کوئی عبادت یا عمل نہیں دیکھا جو عام مسلمانوں سے زیادہ ہو۔ اس آدمی نے جواب دیا کہ میں وہی ہوں جیسا کہ تم نے مجھے دیکھا۔ البتہ میرے اندر ایک چیز ہے اور شاید اسی بنا پر رسول اللہ ﷺ نے ایسا فرمایا ہو۔ اور وہ یہ کہ میں اپنے اندر کسی کے خلاف کینہ نہیں پاتا (غيرانی لا اجد في نفسی لأحد من المسلمين غشا) مسند احمد۔ موجودہ دنیا میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کو دوسرے آدمی سے شکایت ہو جاتی ہے۔ سماج میں رہتے ہوئے بے شکایت زندگی ممکن نہیں۔ کبھی کوئی شخص سخت الفاظ بول دیتا ہے۔ کبھی کوئی شخص آپ کی امیدوں کو پورا نہیں کرتا۔ کبھی کسی شخص سے آپ کو نقصان پہنچ جاتا ہے۔ کبھی کوئی شخص ایسا عمل کرتا ہے جس سے آپ کی انا پر چوٹ پڑتی ہے یا آپ کا وقار مجروح ہوتا ہے وغیرہ۔ اس طرح کی تلخ یادیں مستقل طور پر آدمی کے حافظہ میں محفوظ ہو جاتی ہیں۔ ان کو مٹانا کسی کے لئے ممکن نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پر آدمی کا امتحان ہو رہا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں کامیاب ہو کر وہ اپنے آپ کو جنت کا مستحق بنا سکتا ہے۔ اس امتحان میں کامیابی یہ ہے کہ آدمی ان تلخ یادوں کو بھلانے کی کوشش کرے۔ اور اگر وہ یاد آئیں تو ان کا اثر قبول کرنے سے انکار کر دے۔ اپنے منفی احساسات سے اوپر اٹھنے والا انسان ہی جنت کے باغوں میں داخل کیا جائیگا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader