دین رحمت
Urdu book, p. 142
By Maulana Wahiduddin Khan
حسد حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام علی نے فرمایا کہ تم لوگ حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے، اس طرح جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ (ایاکم والحسد، فان الحسد يأكل الحسنات كما تأكل النار الحطب) ابو داود، بحوالہ مشكاة المصابيح ۳/ ۱۲۰۱۔ آگ لکڑی کی قاتل ہے۔ اس لئے لکڑی کو محفوظ رکھنے کے لئے اس کو آگ سے بچانا پڑتا ہے۔ اسی طرح کچھ چیزیں انسانی جسم کے لئے مہلک ہیں۔ جسم کی صحت و عافیت کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ان مہلک چیزوں سے اس کو مکمل طور پر بچایا جائے۔ ٹھیک یہی معاملہ انسان کی اندرونی شخصیت کا ہے۔ انسان کی روح یا اس کے اندر کی شخصیت ہی اصل انسان ہے۔ اس داخلی انسان کے لئے بھی کچھ چیزیں بے حد مہلک ہیں۔ وہ اس کو آگ کی طرح کھا جانے والی ہیں۔ اس لئے یہ انسان کے اپنے فائدہ کی بات ہے کہ وہ ان مہلک چیزوں سے اپنی شخصیت کو بچائے، وہ اپنے انسانی وجود کا محافظ بن جائے۔ ان مہلک چیزوں میں سب سے زیادہ مہلک چیز حسد ہے۔ جو انسان حسد کا شکار ہو جائے وہ یقینی طور پر اپنی روحانی زندگی کا بھی خاتمہ کر لیگا۔ حسد کیا ہے؟ حسد یہ ہے کہ آدمی کسی دوسرے کو اپنے سے زیادہ دیکھے تو وہ اس کو برداشت نہ کر سکے، وہ اس کے خلاف جلن میں مبتلا ہو جائے، اس قسم کی جلن بلا شبہ یکطرفہ طور پر صرف حاسد کو نقصان پہنچاتی ہے، وہ محسود کی بڑائی میں کوئی کمی نہیں کرتی۔ موجودہ دنیا میں جب بھی کسی کو کسی قسم کی بڑائی ملتی ہے تو وہ خدا کا ایک عطیہ ہوتی ہے۔ یہ دراصل خدا ہے جو اپنی مصلحت کے تحت کسی کو ایک چیز دیتا ہے اور کسی کو دوسری چیز۔ کسی کو کم دیتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ ایسی حالت میں کسی کی بڑائی پر حسد کرنا خدا کے قائم کئے ہوئے فطری نظام کے خلاف لڑنا ہے۔ اس قسم کی لڑائی میں کوئی بھی شخص کامیاب نہیں ہو سکتا۔ البتہ خدائی فیصلے کا اعتراف نہ کرنے کی بنا پر وہ خود اپنے آپ کو ہلاک کر لیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader