Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 143

By Maulana Wahiduddin Khan

عافیت کاراز حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ نے فرمایا کہ جو شخص کسی کو تکلیف پہنچائے تو اللہ اس کو تکلیف پہنچائے گا۔ اور جو شخص کسی کو مشقت میں مبتلا کرے گا تو اللہ اس کو مشقت میں مبتلا کرے گا (من ضار ضار اللہ به ومن شاق شاق الله عليه) مشكاة المصابيح ۱۴۰۱/۳ خدا نے اس دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں کوئی عمل یک طرفہ نہیں، یہاں ہر عمل اپنا دو طرفہ انجام رکھتا ہے۔ آپ ایک گیند کو دیوار پر ماریں تو وہ دوبارہ آپ کی طرف لوٹے گی۔ آپ کسی کو گالی دیں تو گالی کے الفاظ جس طرح دوسرے شخص کے کان تک پہنچیں گے اسی طرح وہ آپ کے کان میں بھی داخل ہوں گے۔ آپ کسی سے انتقام لیں تو وہ اور اس کی اولاد بھی اس انتقام کا انتقام لے گی۔ یہی معاملہ ہر عمل کا ہے۔ کوئی شخص جب کسی کے خلاف ایک عمل کرے تو اس کو جاننا چاہئے کہ فریق ثانی جس طرح اس عمل کا شکار ہوگا اسی طرح خود عمل کرنے والے کو بھی کسی نہ کسی صورت میں اس کا انجام بھگتناپڑے گا۔ یہی حقیقت مذکورہ حدیث میں بتائی گئی ہے۔ اس سنگین حقیقت کا تعلق ہر انسان سے ہے۔ کوئی بھی شخص کسی بھی حال میں اس سے بچنے پر قادر نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں عافیت کی زندگی حاصل کرنے کی سب سے آسان تدبیر یہ ہے کہ آدمی دوسروں کو عافیت میں رکھے۔ جو آدمی دوسروں کو تکلیف نہ دے وہ اپنے آپ کو تکلیف میں پڑنے سے بچاتا ہے۔ جو آدمی دوسروں کو تنگی میں مبتلا کرے وہ خود بھی اس دنیا میں تنگی اور مشقت سے محفوظ رہے گا۔ اس دنیا میں کوئی بھی شخص فطرت کے نظام سے آزاد ہو کر اپنی زندگی نہیں بنا سکتا۔ یہاں ہر آدمی کے لئے فطرت کے نقشہ سے مطابقت ضروری ہے، خواہ وہ چھوٹا آدمی ہویا کوئی بڑا آدمی۔ یہاں فطرت کے نقشہ سے مطابقت کا نام کامیابی ہے اور فطرت کے نقشہ سے انحراف کا نام ناکامی۔ اسلام فطرت سے الگ کوئی طریقہ نہیں۔ اسلام دراصل فطرت ہی کے ابدی اصولوں کا انسانی زندگی پر انطباق ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page