Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

اصلاحی زندگی قرآن میں بتلایا گیا ہے کہ خدا کے پیغمبر حضرت شعیب کو اللہ تعالیٰ نے اہل مدین کی طرف بھیجا۔ جن کی حیثیت اس وقت ایک بگڑی ہوئی قوم کی تھی۔ پیغمبر نے ان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے میری قوم، اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے دلیل پہنچ چکی ہے۔ پس ناپ اور تول پوری کرو۔ اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو۔ اور فساد نہ ڈالو زمین میں اس کی اصلاح کے بعد۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم مومن ہو۔ (الاعراف ۸۵) قرآن کے مطابق موجودہ دنیا ایک اصلاح یافتہ دنیا ہے یہاں صحیح زندگی یہ ہے کہ آدمی دنیا کے اصلاح یافتہ نقشہ کو باقی رکھتے ہوئے یہاں زندگی گزارے۔ اگر وہ فطرت کے اس مقرر نقشہ میں بگاڑ پیدا کرے تو یہ اس کے لئے ایک ناقابل معافی جرم ہو گا۔ اس جرم کی پکڑ سے وہ خدا کے یہاں بچ نہیں سکتا۔ اس فطری نقشہ کا ایک پہلو وہ ہے جو مادی دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔ مثلاً ہوا کا نظام، پانی کا نظام، درختوں کا نظام، زراعت کا نظام وغیرہ۔ ان نظاموں میں تبدیلی کئے بغیر اس سے استفادہ کرنا انسان کا حق ہے۔ لیکن اگر وہ اس نظام کو بدلے مثلاً وہ زمین کے درختوں کو کاٹ ڈالے یا پانی کے ذخیرہ کو آلودہ کر دے یا ایسی کارروائی کرے جس سے ہوا میں گیسوں کا تناسب بدل جائے تو اس قسم کا کوئی بھی عمل اس کے لئے ایک ناقابل معافی جرم ہو گا۔ دوسرا نقشہ وہ ہے جو انسانی سماج میں مطلوب ہے اس کا علامتی معیار ترازو ہے۔ ترازو کی صفت یہ ہے کہ وہ چیزوں کو نہایت منصفانہ طور پر تولتا ہے۔ کم یا زیادہ تولنا ترازو کی فطرت کے خلاف ہے۔ انسان کو بھی اسی صفت کو اختیار کرنا ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اس دنیا میں لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں ترازو کی مانند انصاف کا رویہ اختیار کرے۔ وہ منصفانہ روش کے اصول پر اپنی زندگی کا نقشہ بنائے۔ ترازو ایک اعتبار سے صحیح تول کی علامت ہے اور دوسرے اعتبار سے پورے اخلاقی رویہ میں انصاف اور دیانت داری کی علامت۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page