دین رحمت
Urdu book, p. 145
By Maulana Wahiduddin Khan
فرائض پر نظر حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام ﷺ نے فرمایا کہ عنقریب حکمرانوں میں بگاڑ آجائے گا۔ لوگوں نے پوچھا کہ اس وقت ہم کیا کریں؟ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ حاکموں کو ان کا حق ادا کرو اور اپنا حق خدا سے مانگو (ادوا إليهم حقهم وسلوا الله حقكم) بخاری و مسلم، بحوالہ مشکوۃ المصابیح ۲ / ۱۰۸۔ یہی بات حضرت مسیح نے ان الفاظ میں فرمائی کہ جو قیصر کا ہے قیصر کو دو اور جو خدا کا ہے خدا کو دو۔ یہ آسمانی شریعتوں کی ایک اہم تعلیم ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ انسان کو چاہئے کہ وہ حقوق کے بجائے فرائض پر نظر رکھے۔ وہ حقوق کے نام پر دوسروں سے ٹکراؤ کرنے کے بجائے خود اپنی ڈیوٹی کو پہچانے اور اس کو پورا کرنے میں لگ جائے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی کی نظر اپنے حق پر نہ ہو بلکہ اپنے فریضہ پر ہو۔ وہ یہ نہ دیکھے کہ اس کو کیا ملا اور کیا نہیں ملا بلکہ اس کی ساری توجہ اس پر مرتکز ہے کہ خود اس نے کیا دیا۔ اس نے انسانیت کے اثاثہ میں کیا اضافہ کیا۔ حقوق طلبی کا مزاج سماج میں انتشار اور ٹکراؤ پیدا کرتا ہے۔ وہ باہمی اعتماد کی فضا کو ختم کر دیتا ہے۔ وہ نفرت اور دشمنی کی فضا پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس جس سماج کے افراد کی نظر خود اپنی ڈیوٹی پر ہو وہاں سماج میں مثبت قدروں کو فروغ ہوگا۔ وہاں باہمی اعتماد کا ماحول پرورش پائے گا۔ لوگ ایک دوسرے کا احترام کریں گے۔ ایسے سماج میں امن اور سکون کی ہوائیں چلیں گی۔ سماج سے حکومت بنتی ہے، حکومت سے سماج نہیں بنتا۔ اگر کسی سماج میں مثبت قدروں کو فروغ حاصل ہو جائے تو اس کے بعد وہاں جو حکومت بنے گی وہ بھی اپنے آپ ایک درست حکومت ہوگی۔ اس کے برعکس جس سماج میں منفی قدروں کا غلبہ ہو وہاں حکومت بھی ویسی ہی ہوگی جیسا کہ وہاں کا سماج ہے۔ حدیثِ مذکورہ اصولِ سماج کی اصلاح کا بھی ضامن ہے اور اسی کے ساتھ حکومت کی اصلاح کا بھی ضامن۔ ذاتی اصلاح اجتماعی اصلاح کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader