Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

نقصان میں فائدہ قرآن کی تعلیمات میں سے ایک تعلیم یہ ہے کہ انسان کو چاہئے کہ جب وہ کچھ کھوئے تو وہ اس پر مایوس نہ ہو (الحدید ۲۳)۔ یہ ایک اہم اصول ہے جو موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ موجودہ دنیا اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں لازمی طور پر ہر انسان کو ”نقصان“ کا تجربہ پیش آتا ہے اس سے کوئی بھی مستثنیٰ نہیں، حتیٰ کہ پیغمبر بھی نہیں۔ یہ سادہ معنوں میں صرف نقصان نہیں ہے بلکہ وہ اعلیٰ ترقی کا زینہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں نقصان کے بغیر کوئی شخص بڑی ترقی کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔ ایک شخص بچپن میں یتیم ہو جائے تو بظاہر یہ نقصان کا واقعہ ہے۔ مگر اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ سرپرست سے محرومی اس کے لئے خود اعتمادی کی تربیت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ ایک باپ معاشی دوڑ میں ناکام رہ جائے تو اس کے بچوں میں عمل کا نمایاں شوق پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ زیادہ محنت کر کے باپ سے بھی زیادہ بڑی ترقی حاصل کر لیتے ہیں۔ ایک شخص کو اپنے باپ سے وراثت میں کچھ زرعی زمین ملی مگر اس کے کچھ قریبی لوگوں نے غلط کارروائی کر کے اس کی آبائی زمین اس سے چھین لی۔ اس کے بعد وہ شہر چلا گیا۔ اس نے ایک فیکٹری میں ملازمت کر لی۔ یہاں اس کی صلاحیتوں کو زیادہ بڑا موقع ملا۔ ترقی کرتے کرتے وہ خود ایک فیکٹری کا مالک بن گیا۔ زرعی نقشہ میں اس نے جو کچھ کھویا تھا، صنعتی نقشہ میں اس نے مزید اضافہ کے ساتھ اس کو پا لیا۔ اس دنیا میں امکانات کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ یہاں نقصان میں بھی فائدہ کا پہلو موجود ہوتا ہے۔ یہاں کھونے کے بعد بھی آدمی دوبارہ بہت کچھ پالیتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ بے حوصلہ نہ ہو۔ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو مسلسل استعمال کرتا رہے۔ مایوسی ہمیشہ وقتی نقصان کی بنا پر ہوتی ہے۔ آدمی کی نگاہ اگر مستقبل کو دیکھ سکے تو وہ کبھی مایوس نہ ہو کیوں کہ اس دنیا میں بار بار حالات بدلتے ہیں۔ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ زمین کی گردش رات کو صبح میں تبدیل کر دیتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page