Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 152

By Maulana Wahiduddin Khan

انسانی کردار قرآن کی سورۂ نمبر ۱۴ میں ارشاد ہوا ہے کہ کیا تم نے نہیں دیکھا، کس طرح مثال بیان فرمائی خدا نے کلمہ طیبہ کی۔ وہ ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے اور جس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ وہ ہر وقت پر اپنا پھل دیتا ہے۔ اپنے رب کے حکم سے اور خدا لوگوں کے لئے مثال بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (ابراہیم: ۲۴، ۲۵)۔ پھلدار درختوں کا یہ اصول ہے کہ وہ اپنے موسم پر اپنا پھل دیتے ہیں۔ موسم آتے ہی ایسے درختوں میں پھول لگتے ہیں جو بہت جلد پھل کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ وقت پر اپنا پھل دینا یہ درخت کی صفت ہے۔ یہی صفت انسان سے بھی مطلوب ہے۔ جو واقعہ درخت میں پھل کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے وہی واقعہ انسان کی زندگی میں اخلاقی رویہ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ گویا ایک اگر مادی پھل ہے تو دوسرا اخلاقی پھل۔ پہلا واقعہ طبعی قانون کے تحت پیش آتا ہے اور دوسرا واقعہ خود انسان کے اپنے شعوری فیصلہ کے تحت۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے ہر موقع پر اپنے قول و عمل سے وہ اسی روش کا اظہار کرے جس کی توقع انسان ہونے کی حیثیت سے اس سے کی گئی ہے۔ کسی معاملہ میں اس کو اپنا بیان دینا ہو تو وہ وہی کہے جو انصاف کا تقاضا ہو۔ وہ کسی حال میں بے انصافی کی بات اپنی زبان سے نہ نکالے۔ اگر کسی کی طرف سے کوئی اشتعال انگیز بات پیش آئے تو وہ اس کے مقابلہ میں تحمّل کا انداز اختیار کرے، کیونکہ تحمل کے خلاف روش انسان کی انسانیت کے مطابق نہیں۔ اس کا یہی اندازِ عملی معاملات میں بھی ہو۔ وہ جب بھی لوگوں کے درمیان کوئی عمل کرے تو پہلے یہ سوچ لے کہ اس کا یہ عمل اس کے انسان ہونے کی حیثیت کے مطابق ہے یا اس کے مطابق نہیں۔ وہ جب ایک راستہ پر چلے تو وہ دوسروں کو بھی راستہ دے رہا ہو۔ وہ جب دوسروں کے ساتھ لین دین کرے تو اس کا لین دین عین وہی ہو جس کی امید اس سے انسان ہونے کی بنا پر کی گئی تھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page