دین رحمت
Urdu book, p. 153
By Maulana Wahiduddin Khan
منتخب بندے قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت آدم کی تخلیق کے وقت خدا اور ابلیس کے درمیان ایک مکالمہ ہوا۔ اس مکالمہ کا ایک جز یہ تھا: ابلیس نے کہا: اے میرے رب، جیسا تو نے مجھ کو گمراہ کیا ہے اسی طرح میں زمین میں ان کے لئے مزین کروں گا اور سب کو گمراہ کر دوں گا۔ سوا ان کے جو تیرے چنے (مخلص) بندے ہیں۔ خدا نے کہا: یہ ایک سیدھا راستہ ہے جو مجھ تک پہنچتا ہے۔ بیشک جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا زور نہیں چلے گا۔ سوا ان کے جو گمراہ ہوں میں سے تیری پیروی کریں۔ اور ان سب کے لئے جہنم کا وعدہ ہے۔ اس کے سات دروازے ہیں۔ ہر دروازہ کے لئے ان لوگوں کے الگ الگ حصے ہیں (الحجر: ۳۹-۴۳)۔ ابلیس یا شیطان لوگوں کو صحیح راستے سے بہکانے کے لئے جو تدبیر اختیار کرتا ہے وہ تزئین ہے۔ یعنی غلط عمل کو درست بنا کر پیش کرتا۔ تزئین کے اس فتنے سے وہ لوگ بچیں گے جو خدا کے چنے ہوئے بندے ہوں، اس بچاؤ کی صورت کیا ہو گی اس کا جواب ایک حدیث میں اس طرح ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اپنے بندوں کی مغفرت اس وقت تک کرتا رہوں گا جب تک کہ وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں (القرطبی (۱۰/۳۷۔ اس سے معلوم ہوا کہ تزئین کا توڑ استغفار ہے۔ یعنی جب بھی شیطان کسی غلط عمل کو مزین کر کے پیش کرے تو بندہ حکمت خداوندی کو استعمال کر کے شیطانی فریب کی حقیقت کھول دے۔ وہ اپنی ایمانی فراست کے ذریعہ شیطان کی تزئین کو سمجھے جائے اور استغفر اللہ کہہ کر اپنے آپ کو شیطان کے فکری جال میں پھنسنے نہ دے۔ شیطانی تزئین کا معاملہ فکر اور سوچ کی سطح پر ہوتا ہے۔ اس کے توڑ کی واحد تدبیر یہ ہے کہ آدمی خدائی وحی اور خدائی نشانیوں میں غور کر کے اپنے آپ کو اس حد تک باشعور بنائے کہ جب بھی شیطان کسی غلط چیز کو مزین کر کے اس کے سامنے لائے تو وہ فوراً اس کا تجزیہ کر کے اس کی غلطی کو معلوم کرے۔ اور اس طرح اس کے فریب میں پڑنے سے اپنے آپ کو بچالے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader