دین رحمت
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
کھونے میں پانا قرآن آن میں ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر مصیبت ڈالتا ہے۔ اس کو محرومی اور نقصان میں مبتلا کرتا ہے۔ اس کے بعد اگر وہ بندہ صبر کرے تو صبر کی یہ روش اس کو ہدایت والا بنا دیتی ہے (البقرہ: ۱۵۶)۔ اس معاملہ کی مزید وضاحت ایک حدیث سے ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسی مسلم پر جب کوئی مصیبت آتی ہے اور وہ اپنی مصیبت کے وقت انا للہ وانا الیہ راجعون کہتا ہے اور یہ دعا کرتا ہے کہ اے اللہ، مجھے میری مصیبت پر اجر دے اور اس کے بعد اس سے بہتر عطا فرما تو اللہ اس کے ساتھ ایسا ہی کرتا ہے: لا يصيب احدا من المسلمين مصيبة فيسترجع عند مصيبته ثم يقول: اللهم اجرني في مصيبتي واخلف لي خيرا منها الا فعل ذلك به (تفسیر ابن کثیر: ۱/ ۱۹۸)۔ دنیا جس قانون الہی کے تحت چل رہی ہے اس کے مطابق یہاں ہر آدمی پر مصیبت کے لمحات آتے ہیں۔ مصیبت کے ان لمحات میں آدمی اگر مغلوب نہ ہو، وہ ان کے مقابلہ میں ثابت قدم رہتے ہوئے اللہ کی طرف رجوع کرے، وہ انسانوں سے شکایت کرنے کے بجائے اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے تو اس کی یہ صابرانہ روش زیادہ بہتر انجام کے ساتھ اس کی طرف لوٹتی ہے۔ یہ زیادہ بہتر انجام ہدایت کی روشنی ہے۔ مصیبتوں پر صبر سے آدمی کی روحانیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ زیادہ حساس ہو کر خدائی فیضان کو اخذ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر تواضع کی نفسیات پیدا ہوتی ہے۔ خلاف ایمان اوصاف، مثلاً گھمنڈ، انتقام، بے اعترافی، حب جاہ، وغیرہ، کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ ایسا آدمی، شعوری اعتبار سے، دنیا سے دور اور آخرت سے قریب ہو جاتا ہے۔ مصیبت حقائق معنوی میں داخلہ کا دروازہ ہے۔ مصیبت کے ذریعہ آدمی کو معرفت کی روشنی حاصل ہوتی ہے۔ مصیبت میں آدمی مادی چیز کھوتا ہے اور اس کے بدلے میں وہ روحانی نعمتوں کو حاصل کر لیتا ہے۔ مگر یہ ”کھونے میں پانا“ صرف اس شخص کے لئے مقدر ہے جو مصائب و نقصان پر صبر کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader