دین رحمت
Urdu book, p. 155
By Maulana Wahiduddin Khan
خرابی کی جڑ اللہ تعالیٰ نے جب آدم کو پیدا کیا تو ابلیس کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کرے مگر ابلیس نے ایسا کرنے سے انکار کیا اس کا سبب اس کا بڑائی کا احساس تھا (أنا خير منه) آدم کو چھوٹا سمجھتا اور ان کے مقابلے میں اپنے کو بڑا سمجھ لینا ہی وہ جرم تھا جس کی بنا پر ابلیس خدا کی پیروی نہ کر سکا اور ملعون قرار پایا۔ یہی احساس تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ انسانی زندگی میں جتنی بھی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ان سب کی وجہ آخر کار یہی خود ساختہ برتری کا احساس ہوتا ہے۔ آدمی جب حق کا اعتراف نہیں کرتا تو اس کا سبب یہی ہوتا ہے کہ اس نے داعی حق کو کم اور اس کے مقابلے میں اپنے آپ کو زیادہ سمجھ لیا تھا جب آدمی کسی کے خلاف زیادتی کرتا ہے تو اس کی جرأت بھی اس کو اسی لئے ہوتی ہے کہ وہ مذکورہ شخص کو کم تر اور اس کے مقابلے میں اپنے آپ کو بر تر سمجھ رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح ادارے میں جب عہدے کے جھگڑے ہوتے ہیں تو اس کے پیچھے بھی یہی سبب ہوتا ہے۔ ایک شخص یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اس عہدے کا زیادہ مستحق ہوں۔ اپنے بارے میں بڑائی کا احساس رکھنے والا آدمی اگر اپنے آپ کو زور آور پائے تو وہ اپنے خیال کے مطابق کمزور فریق کے خلاف ظلم و زیادتی کرنے لگتا ہے۔ یہ گویا اپنے احساس برتری کا فعال اظہار ہے۔ اس کے بجائے وہ آدمی جس کا یہ حال ہو کہ وہ احساس برتری کا شکار تو ہو لیکن وہ زور آور نہ ہو، ایسا آدمی انفعالی طور پر اپنے جذبہ برتری کا اظہار کرتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو حسد اور جلن جیسی نفسیاتی کمزوریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ لفظی بڑائی کر کے دوسرے کے قد کو چھوٹا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنے رجحان کے مطابق، جس واقعے کو وہ خارجی طور پر ظہور میں نہ لاسکے اس کو وہ اپنے قلب اور اپنی زبان کے ذریعے ظہور میں لا کر یہ تسکین حاصل کرتے ہیں کہ جو ان سے چھوٹا تھا اس کو انہوں نے آخر کار چھوٹا ثابت کر دیا۔ فرشتوں کی صفت اعتراف ہے اور شیطان کی صفت بے اعترافی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader