دین رحمت
Urdu book, p. 156
By Maulana Wahiduddin Khan
نفسِ مطمئَن قرآن میں کامیاب انسان کو النفس المطمئنة کہا گیا ہے یعنی مطمئن روح (Peaceful Soul) اس سے مراد وہ انسان ہے جو جئے تو حالتِ اطمینان میں جئے اور اس پر موت آئے تو حالتِ اطمینان پر موت آئے۔ وہ ہر حال میں مطمئن زندگی گزارنے والا ہو۔ قرآن میں اس کے دو معیار بتائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا جب اس کو آسودگی اور فراوانی عطا فرمائے تو وہ فخر و ناز کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو بلکہ متواضع انسان بن کر دنیا میں رہے۔ دوسرا معیار یہ ہے کہ خدا جب اس کو معاشی تنگی میں مبتلا کرے تو وہ مایوسی اور دل شکستگی کا شکار نہ ہو بلکہ وہ صبر و شکر کے ساتھ اس کا استقبال کرے۔ دنیا کی زندگی میں حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے۔ یہاں کبھی فراخی آتی ہے کبھی تنگی۔ کبھی مشکل پیش آتی ہے اور کبھی آسانی۔ کبھی موافق صور تحال سے سابقہ پیش آتا ہے اور کبھی ناموافق صور تحال سے۔ یہ مختلف حالات امتحان کے لئے ہوتے ہیں جو انسان ان حالات میں مثبت ذہن پر قائم رہے وہ اللہ کی نظر میں کامیاب ٹھہر اور منفی ذہنیت کا شکار ہو جائے وہ ناکام ہو گیا۔ نفسِ مطمئن کا مطلب شاداں و فرحاں ہونا نہیں ہے۔ اس دنیا میں شاداں و فرحاں صرف وہ شخص ہو سکتا ہے جو سطحی طرزِ فکر کا حامل ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ مادی آسائش کی کوئی بھی مقدار اعلیٰ انسان کو مطمئن نہیں کرتی ہر مادی آسائش اعلیٰ ذہن والے انسان کو اپنی ذہنی سطح سے کمتر محسوس ہوتی ہے اس لئے وہ اس پر مطمئن بھی نہیں ہو سکتا۔ مذکورہ آیت میں اطمینان کا تعلق دنیوی چیزوں سے نہیں ہے بلکہ خدا سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو خدا کی طرف سے جس آزمائش میں بھی ڈالا جائے خواہ وہ فراوانی کی آزمائش ہو یا تنگی کی آزمائش، ہر حال میں وہ راضی برضار ہے۔ کوئی بھی تجربہ خدا کی نسبت سے اس کے اطمینانِ قلب کو برہم نہ کرے۔ سکھ کی حالت ہو یادکھ کی حالت، ہر حال میں خدا کے ساتھ اس کا روحانی تعلق یکساں طور پر برقرار رہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader