دین رحمت
Urdu book, p. 157
By Maulana Wahiduddin Khan
قانونِ فطرت روى الإمام مسلم فى صحيحہ عن ابى هريرة عن النبى حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص ﷺ قال: من یسر علی معسر فی الدنیا یسر اللہ علیہ دنیا میں کسی تنگ حال کو آسانی دے گا تو اللہ اس کو دنیا اور آخرت فی الدنیا والآخرة۔ میں آسانی دے گا۔ روی الإمام البخاری فی صحیحہ عن ابن عمر ان حضرت عبد اللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو رسول الله ﷺ قال: من كان فی حاجة اخیہ كان اللہ فی شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے گا، اللہ اس کی حاجت حاجتہ (وفی روایة) قال ﷺ: والله فی عون العبد ما پوری کرے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ كان العبد فی عون اخیہ۔ بندہ کی مدد کرتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کرے۔ جو آدمی دوسروں کی مدد کرے اور ان کی مشکل میں ان کے کام آئے اس کو اس خدائی نظام کی حمایت حاصل ہو جاتی ہے جو خدا نے فطرت کی سطح پر قائم کر رکھا ہے۔ اس حمایت کی بنا پر وہ آدمی کامیاب ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس نظامِ فطرت کا یہ اٹل قانون ہے کہ جو شخص لوگوں کے کام آئے وہ لوگوں کی نظر میں ان کا محبوب ہو جائے۔ لوگوں کے دل اس کے لئے جھک جائیں۔ اس کو ہر ایک کی طرف سے عزت اور احترام حاصل ہو۔ اور جس شخص کو اپنے ماحول میں اس قسم کا باعزت مقام حاصل ہو جائے اس کا کوئی کام اٹکا ہوا نہیں رہ سکتا۔ دوسروں کی مدد کرنا دوسروں کے لئے نفع بخش بننا ہے۔ اور نفع بخشی اپنے اندر بے پناہ کشش رکھتی ہے۔ لوگوں کے لئے نافع بننے والا لوگوں کے درمیان سردار کا درجہ پالیتا ہے۔ کسی مطالبہ کے بغیر لوگ اضافہ کے ساتھ اس کے حقوق ادا کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ وہ دینے والا ہوتا ہے اور لوگ لینے والے۔ اور یہ فطرت کا قانون ہے کہ دینے والا لینے والوں کے اوپر سرداری کا مقام حاصل کر لے۔ فطرت کا اٹل قانون یہ ہے کہ آدمی دے کر پائے۔ وہ دوسروں کو راحت پہنچا کر خود اپنے لئے راحت حاصل کرے۔ اس قانون میں کوئی استثنا نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader