Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 158

By Maulana Wahiduddin Khan

امانت ادا کرو عن ابی ھریرۃ ، عن النبی صلی الله علیہ وسلم قال: حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص "أد الأمانة إلى من ائتمنك ولا تخن من خانك" تمہارے پاس امانت رکھے اس کی امانت ادا کرو۔ اور جو شخص (رواه الترمذی وابو داود والدارمی) تمہارے ساتھ خیانت کرے اس کے ساتھ تم خیانت نہ کرو۔ امانت ادا کرنا بلاشبہ ایک اہم ترین اسلامی حکم ہے (المؤمنون ۸) اگر کسی شخص کے پاس کسی دوسرے کی کوئی امانت ہو تو اس کو اس وقت تک بے چین رہنا چاہئے جب تک وہ اس کو ادا نہ کرلے۔ امانت کا تعلق کسی مخصوص چیز سے نہیں، اس کا تعلق تمام چیزوں سے ہے۔ ابو حیان اندلسی نے اپنی تفسیر البحر المحیط (سورہ المومنون) میں لکھا ہے کہ امانت کے حکم میں قول اور فعل اور عقیدہ سے تعلق رکھنے والی تمام چیزیں داخل ہیں۔ اگر آپ کے پاس ایک ایسی بات ہے جو کسی کے حق میں مفید ہو سکتی ہے تو وہ گویا دوسرے شخص کی امانت ہے جو آپ کے پاس محفوظ ہے، اس بات کو اس شخص تک پہنچانا آپ کا فرض ہے۔ اگر آپ کا ایک قول کسی کو بے عزت ہونے سے بچا سکتا ہے تو وہ قول دوسرے آدمی کی امانت ہے۔ آپ پر لازم ہے کہ آپ اس قول کا اعلان کریں تاکہ آپ کے بھائی کی عزت اور مال محفوظ ہو سکے۔ ولا تخن من خانک کی نصیحت بے حد اہم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک آدمی کے اندر یہ مزاج نہ ہو کہ وہ دوسرے آدمی کی روش سے قطع نظر کر کے اس کی امانت ادا کرے گا، اس وقت تک وہ امانت کی ادائیگی کے امتحان میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ موجودہ دنیا میں اکثر حالات میں ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے شخص سے شکایت ہو جاتی ہے۔ یہ شکایت صحیح بھی ہوتی ہے اور غلط بھی ۔۔ اگر آدمی شکایتوں سے اثر لے تو وہ کبھی بہتر اخلاق پر عمل نہیں کر سکتا۔ اس دنیا میں خیانت کے باوجود امانت کا طریقہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ دوسروں سے برے سلوک کا تجربہ ہونے کے باوجود ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا پڑتا ہے۔ جو شخص "باوجود" کے اس اصول کو نہ مانے وہ اس دنیا میں کبھی صحیح اسلامی روش پر قائم نہیں رہ سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page