Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

دو انسان پانی پانی ہے۔ لیکن گرم ہونے کے بعد وہ آگ بن جاتا ہے۔ ابتدائی حالت میں وہ ایک ٹھنڈا سیال ہے۔ اور انتہائی حالت میں کھولتا ہوا الاؤ۔ یہ پانی کے لئے قدرت کا قانون ہے۔ یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ انسان اپنی ابتدائی حالت میں ایک بے ضرر انسان ہوتا ہے۔ لیکن اگر انسان کی انا کو چھیڑ دیا جائے تو وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ ضرر رساں بن جائے گا۔ انسان اپنی معتدل حالت میں ہو تو وہ فطرت کا ایک دل کش پھول ہے۔ مگر انسان کے اندر جب غصہ کی آگ بھڑک اٹھے تو اس وقت وہ ایک اور انسان ہوتا ہے۔ اس وقت وہ تمام حیوانوں سے زیادہ خو نخوار حیوان بن جاتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کی ایک صفت یہ ہے کہ اس کے اندر نفس لوامہ رکھ دیا گیا ہے۔ نفس لوامہ سے مراد ضمیر ہے۔ ابتدائی طور پر آدمی اپنے نفس لوامہ پر ہوتا ہے۔ اس وقت آدمی کی فطرت اس کی رہنما ہوتی ہے۔ وہ عین اپنی اندرونی آواز کے تحت شرافت اور انسانیت پر قائم رہتا ہے۔ انسان کی دوسری صفت وہ ہے جس کو قرآن میں نفس امارہ کہا گیا ہے۔ اس سے مراد انانیت ہے۔ آدمی کا نفس امارہ یا اس کی اناعام حالت میں سوئی ہوئی رہتی ہے۔ اس سے کسی کو خطرہ نہیں ہوتا۔ مگر جب نفس امارہ پر زد پڑے تو وہ جاگ اٹھتا ہے۔ اس وقت وہ انتقامی جذبات میں اندھا ہو جاتا ہے۔ اب وہ انتہائی حد تک نقصان رساں بن جاتا ہے۔ انسان کی یہ دونوں صفتیں خود خالق نے پیدا کی ہیں۔ اس لئے ان کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ ہمارے لئے صرف یہ ممکن ہے کہ اعراض کے اصول پر عمل کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس کے نقصان سے بچائیں۔ ہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہم مقابل کے انسان کی نفس لوامہ کو جگائیں اور اس کی نفس امارہ کو خوابیدہ حالت میں پڑا رہنے دیں۔ اسلام کے مطابق، کامیابی اور ناکامی دونوں آدمی کے اپنے اختیار میں ہے۔ آدمی دوسرے فریق کے اندر جس قسم کی نفسیات جگائے گا وہی اس کے حصہ میں آئے گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page