Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 160

By Maulana Wahiduddin Khan

سمجھ داری الدیلمی نے حضرت انس کے واسطہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: المؤمن کیس فطن (مومن دانا اور سمجھ دار ہوتا ہے)۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ : اتقوا فراسة المؤمن فانه ينظر بنور الله (مومن کی ہوشیاری سے بچو، کیوں کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے)۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہوشیاری اور سمجھ داری کوئی نسلی یا گروہی صفت ہے جو ان تمام لوگوں میں پائی جاتی ہے جو اپنے آپ کو مومن کہیں ۔ یہ دراصل کسی گروہ کی خصوصیت نہیں بلکہ ایمان کی خصوصیت ہے۔ جس آدمی کے اندر حقیقی ایمان پیدا ہو جائے ، اس کے اندر وہی صفت آجائے گی جس کا اوپر ذکر ہوا۔ سمجھ داری کیا ہے؟ سمجھ داری کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ آدمی کے اندر وہ صفت پائی جائے جو ایک دعاء کے اندر ان الفاظ میں ملتی ہے : وارنا الاشیاء كما هي (اے اللہ، مجھے چیزوں کو ویسا ہی دکھا جیسا کہ وہ ہیں)۔ اس کا مطلب چیزوں کو ان کی اصل صورت میں (as it is) دیکھنا ہے۔ ایمان آدمی کے اندر یہی صفت پیدا کرتا ہے۔ اور جو آدمی چیزوں کو ان کی اصل حالت میں دیکھنے لگے ، اس کی رائے اور اس کے فیصلے ہمیشہ درست ہوں گے۔ حقیقی ایمان آدمی کے اندر ایک ذہنی انقلاب پیدا کر دیتا ہے ۔ وہ اس قائل ہو جاتا ہے کہ ذاتی رجحانات سے الگ ہو کر رائے قائم کرنے لگے۔ اور آدمی کے اندر یہ استعداد پیدا ہو جانے ہی کا دوسرا نام ہوشیاری ہے۔ ایک شخص جب کسی کو حسد اور نفرت کی نظر سے دیکھے تو اس کی خوبیاں اس کو دکھائی نہیں دیں گی۔ وہ اس کو سراپا برائی نظر آئے گا۔ اس کے برعکس ایک آدمی کسی کو محبت اور عقیدت کی نظر سے دیکھنے لگے تو اس کی برائیاں اس کی نظر سے اوجھل ہو جائیں گی۔ وہ اس کو سراپا اچھائی کی صورت میں دکھائی دے گا۔ اسی طرح غصہ، انتقام اور جھنجھلاہٹ کے ساتھ جو رائے قائم کی جائے وہ کبھی معتدل رائے نہیں ہوتی۔ کسی خاص کیفیت کا آدمی کے اوپر غلبہ ہو جائے تو وہ اس کے بارہ میں درست رائے قائم کرنے سے قاصر رہے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page