Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 161

By Maulana Wahiduddin Khan

تقویٰ، اخلاق آدمی دو ذمہ داریوں کے درمیان ہے، خدا اور انسان۔ خدا کے مقابلہ میں آدمی سے تقویٰ مطلوب ہے، اور انسان کے مقابلہ میں اخلاق۔ مگر یہ دونوں ہی چیزیں کسی کو عزیمت کی سطح پر حاصل ہوتی ہیں۔ رخصت کی سطح پر ان میں سے کوئی چیز کسی کو حاصل نہیں ہوتی۔ خدا کے مقابلہ میں آدمی کو صاحب تقویٰ بناتا ہے۔ یعنی ڈر کی حد تک خدا کی عظمتوں کو محسوس کرنے والا۔ اس قسم کا احساس کسی شخص کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ کبھی قانونی حد پر نہیں رک سکتا۔ وہ لازماً قانون کی حد سے آگے تک پہنچ جائے گا۔ وہ صرف عامل نہیں رہے گا بلکہ محتاط بن جائے گا۔ وہ کسی محدود معنے میں متقی نہیں بنے گا بلکہ وہ کلی معنی میں متقی بننے کی کوشش کرے گا۔ تقویٰ کسی حد بندی کو نہیں جانتا۔ یہی بات ہے جو حدیث میں ان لفظوں میں بتائی گئی ہے: عن عطية السعدى قال قال رسول الله صلى الله عليه عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وسلم: لا يبلغ العبد ان يكون من المتقين حتى يدع مالا بندہ متقیوں کے درجہ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک اس کا یہ حال بأس به حذرا مما به بأس (الترمذي وابن ماجة) تفسير نہ ہو جائے کہ وہ ایسی چیزوں کو بھی چھوڑ دے جس میں ہرج ابن كثير، ١ ٤٠٠ ۔ نہیں ہے اس اندیشہ سے کہ شاید اس میں ہرج ہو۔ انسان کے مقابلہ میں آدمی سے یہ مطلوب ہے کہ وہ صاحب اخلاق بنے۔ جس آدمی کے اندر اخلاقی احساس پیدا ہو جائے وہ کبھی برابر کی سطح پر نہیں رکے گا۔ یعنی وہ ایسا نہیں کرے گا کہ دوسرے لوگ خوش اخلاقی برتیں تو وہ بھی ان کے ساتھ خوش اخلاق بن جائے۔ اور دوسرے لوگ بد اخلاقی برتیں تو وہ ان کے ساتھ برا سلوک کرنے لگے۔ سچا صاحب اخلاق یک طرفہ اخلاقیات پر قائم ہوتا ہے۔ حدیث میں یہی بات ان لفظوں میں کہی گئی ہے: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: صل من قطعك واعف عمن ظلمك واحسن الى من اساى اليك. رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص تم سے کٹے تم اس سے جڑو۔ جو شخص تم پر ظلم کرے تم اس کو معاف کردو۔ اور جو شخص تمہارے ساتھ برا سلوک کرے تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page