Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

انفرادی حکم، اجتماعی حکم ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص تم کو امین بنائے تم اس کی امانت ادا کرو، اور جو آدمی تمہارے ساتھ خیانت کرے تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو (أد الأمانة الى من انتمنك ولا تحن من خانك) مشکوة المصابیح ۸۸۵/۲ دوسری روایت میں عمر بن عتبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جس کے درمیان اور کسی قوم کے درمیان معاہدہ ہو تو وہ نہ اس کی کوئی گرہ کھولے اور نہ اس کو باندھے، یہاں تک کہ اس کی مدت پوری ہو جائے ، یا پھر اس کی طرف معاہدہ کو برابری کے ساتھ پھینک دے (من کان بینہ و بین قوم عهد فلا يحُلَنَّ عهداً ولا يشدَّنه حتى يمضى آمده او ينبذ اليهم علی سواء) مشکوة المصابیح ۱۶۵/۲۔ ان دونوں حدیثوں میں ایک ہی بات کہی گئی ہے۔ البتہ پہلی حدیث کا تعلق فرد کے معاملات سے ہے، اور دوسری حدیث کا تعلق قوم کے معاملات سے۔ ایک میں انفرادی نوعیت کا حکم ہے اور دوسری میں اجتماعی نوعیت کا حکم۔ شریعت میں کچھ احکام انفرادی احکام کہے جاتے ہیں اور کچھ احکام اجتماعی احکام۔ یہ دونوں احکام اپنی اسپرٹ کے اعتبار سے ایک ہوتے ہیں۔ البتہ ان میں دائرہ عمل کے اعتبار سے فرق ہوتا ہے۔ مثلاً مذکورہ دونوں حکموں کی اسپرٹ ایک ہے۔ یعنی خیانت کرنے والے کے ساتھ خیانت نہ کرنا۔ فرد کا دائرہ اختیار اپنے شخصی معاملات تک محدود ہے، اس لئے وہ اپنے شخصی دائرہ میں اس اسپرٹ کی تعمیل کرے گا۔ قوم کا دائرہ اختیار اجتماعی اور بین اقوامی معاملات تک ہے، اس لئے قوم (یا قوم کے ذمہ دار) اس اسپرٹ کی تعمیل وسیع تر دائرہ میں کریں گے۔ مومن وہ ہے جس کا کردار، اس حد تک بااصول ہو کہ اس کے بارے میں تجربہ سے پہلے پیشین گوئی کی جاسکے۔ یہ قابل پیشین گوئی کردار ہی اہل ایمان کی اصل اور حقیقی شناخت ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page