حکمتِ اسلام
Urdu book, p. 219
By Maulana Wahiduddin Khan
بڑا گمان کرنا حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ بے شک خدا نے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون اور اس کی آبرو کو حرام کر دیا ہے اور یہ بھی حرام کیا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے بارہ میں بدگمان کرے (انّ الله حرّم من المسلم دمه وعرضه وان يظن به ظنّ السوء، تفسیر قرطبی) اس قسم کی ہدایات کا نتیجہ یہ تھا کہ پیغمبر اسلام صلّی اللہ علیہ وسلّم کے اصحاب گمان قائم کرنے کے بارہ میں بے حد حساس تھے ۔ وہ اس معاملہ میں آخری حد تک احتیاط برتتے تھے کہ کسی کے بارہ میں غلط گمان اپنے ذہن میں مقام کر لیں ۔ حسن بصری تابعی نے بعد کے لوگوں سے کہا کہ پہلے ہم ایسے زمانہ میں تھے کہ بدگمانی کو حرام سمجھا جاتا تھا ۔ اور آج بدگمانی اتنی ہلکی چیز بن گئی ہے کہ تم کسی کے بارہ میں جو غلط رائے چاہو قائم کر لو (کتانی نحن الظنّ بالناس فيه حرام وانت اليوم في ظنّ ظنّ في الناس ماشئت) بدگمانی اکثر اس طرح پیدا ہوتی ہے کہ ایک واقعہ کو غلط رنگ دیدیا جاتا ہے ۔ ایک بار حضرت سلمان فارسی اور ان کے دو ساتھیوں کو کھانے کی ضرورت پیش آئی۔ ان کے پاس کھانے کے لیے کچھ موجود نہ تھا۔ حضرت سلمان فارسی حضرت اسامہ کے پاس گئے جو پیغمبر اسلام صلّی اللہ علیہ وسلّم کے خازن تھے ۔ حضرت سلمان نے ان سے کھانا طلب کیا۔ مگر اتفاق سے اس وقت سب کھانا ختم ہو چکا تھا۔ چنانچہ وہ کوئی کھانے کی چیز انھیں نہ دے سکے ۔ حضرت سلمان جب اپنے دونوں ساتھیوں کی طرف لوٹے اور ان کو قصہ بتایا تو دونوں نے کہا کہ اسامہ کے پاس کھانا موجود تھا مگر انھوں نے بخل سے کام لیا (هت كان عنده تكلمه يحل)، تفسیر القرطبی ۳۳۱/۸ مذکورہ دونوں افراد اگر حضرت اسامہ کے انکاری جواب کو عذر پر محمول کرتے تو وہ بدگمانی میں نہ نہ پڑتے ۔ مگر انھوں نے ان کے جواب کو بخل سمجھا اس لیے وہ ایک صالح انسان کے بارہ میں بدگمانی میں پڑ گئے۔ اس طرح کی بدگمانی اسلام میں سراسر حرام ہے ۔ آدمی پر لازم ہے کہ اس طرح کے معاملات میں وہ اپنے بھائی کے بارہ میں اچھی رائے قائم کرے ورنہ خاموش رہے ۔ اس کے سوا کوئی تیسرا رویہ اس کے لیے درست نہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader