Urdu book · اسلام ایک تعارف

حکمتِ اسلام

Urdu book, p. 220

By Maulana Wahiduddin Khan

دل جیتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب توحید کا مشن اٹھایا تو عرب میں آپ کی بہت زیادہ مخالفتیں کی گئیں۔ آپ کے خلاف ہر قسم کا تشدد کیا گیا۔ لیکن آپ نے ان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی۔ اس کے بجائے آپ نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تا کہ ان کا دل جیت سکیں۔ آپ کا وطن مکہ تھا۔ مکہ والوں نے آپ کے خلاف ظلم و زیادتی کر کے آپ کو اپنے وطن سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ پھر ایک وقت آیا کہ آپ مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے ۔ مکہ پر آپ کا قبضہ ہو گیا۔ اس وقت مکہ کے مخالفین آپ کے سامنے لائے گئے۔ وہ سرجھکائے ہوئے کھڑے تھے۔ مگر آپ نے ان کو کسی قسم کی کوئی سزا نہیں دی بلکہ سب کو عزت کے ساتھ آزاد کر دیا۔ اس سلوک کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سب کے سب لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔ اسی طرح قبیلہ ہوازن کے لوگوں نے سرکشی کر کے آپ کے اوپر حملہ کر دیا۔ ان سے جنگ کی نوبت آگئی۔ اسلام کی تاریخ میں اس کو حنین کی جنگ کہا جاتا ہے۔ آخر میں آپ کو فتح حاصل ہوئی۔ اور ہوازن کے لوگ چھ ہزار کی تعداد میں گرفتار ہو کر آپ کے سامنے لائے گئے۔ ان کے ساتھ بھی آپ نے انتقام کا معاملہ نہیں کیا۔ بلکہ سب کو عزت کے ساتھ رہا کر دیا۔ اس اعلیٰ اخلاق کا ان پر اتنا اثر ہوا کہ پورے قبیلے نے اسلام قبول کر لیا۔ انتقام لینا، سبق سکھانا، اسلام کا طریقہ نہیں۔ اس طرح کی کارروائی سے مسئلہ اور زیادہ بڑھتا ہے۔ مگر جب برے سلوک کے جواب میں اچھا سلوک کیا جائے تو آدمی اندر سے مفتوح ہو جاتا ہے۔ اسی کا نام دل جیتنا ہے۔ اور دل جیتنے کا طریقہ ہمیشہ زیادہ طاقت ور ثابت ہوتا ہے، خواہ انفرادی معاملہ ہو یا اجتماعی معاملہ۔ انتقام کا طریقہ پورے سماج کو منفی کارروائیوں کا جنگ بنا دیتا ہے۔ اس کے برعکس دل جیتنے والا طریقہ پورے سماج میں اخلاق اور انسانیت کی فضا پیدا کرتا ہے۔ انتقام سے مسئلہ صرف بڑھتا ہے جبکہ دل جیتنے والا طریقہ مسئلہ کو آخری حد تک ختم کر دیتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page