Urdu book · اسلام ایک تعارف

حکمتِ اسلام

Urdu book, p. 229

By Maulana Wahiduddin Khan

فطرت کا نظام کامیابی نام ہے خدا کے مقرر کیے ہوئے فطری نظام سے مطابقت کرنے کا ــــــــ یہی ایک لفظ میں زندگی کا راز ہے۔ خواہ وہ فرد کی زندگی کا معاملہ ہو یا سماج اور ریاست کا معاملہ۔ یہ دنیا جس میں ہم اپنے آپ کو پاتے ہیں وہ ہم نے خود نہیں بنائی ہے۔ اور نہ اس کو بنانے والے نے ہمارے مشورے کے مطابق اس کو بنایا ہے۔ یہ دنیا کچھ محکم اصولوں پر بنائی گئی ہے۔ اور وہ انہی اصولوں کے تحت چل رہی ہے ، اور اسی طرح وہ ہمیشہ چلتی رہے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ہماری حیثیت ثانوی ہے۔ ہمیں ایک طرفہ طور پر دنیا کے نظام سے موافقت کرنا ہے۔ موافقت نہ کرنے کی صورت میں ، نقصان اٹھانے والے فریق ہم خود ہوں گے نہ کہ بقیہ دنیا۔ ایک کسان اپنے کھیت سے اسی وقت ہری بھری فصل حاصل کرتا ہے جب کہ وہ فطرت کے مقرر کیے ہوئے قانون زراعت کی کامل پابندی کرتا ہے۔ اسی طرح ایک انجینئر اسی وقت کوئی ٹیکنیکل کارنامہ انجام دیتا ہے جب کہ وہ فزکس اور کیمسٹری کے قوانین فطرت کو پوری طرح استعمال کرے ۔ وغیرہ۔ ٹھیک یہی معاملہ انسانی دنیا کا ہے۔ انسانی دنیا کے لیے بھی اسی طرح فطرت کے مقرر قوانین ہیں۔ یہاں بھی کوئی کامیابی صرف اس فرد یا قوم کے لیے مقدر ہے جو ان اصولوں کی پابندی کرے ، جو فطرت نے پیشگی طور پر اس کے لیے قائم کر دیا ہے۔ کوئی بھی انسان اس پر قادر نہیں ہے کہ وہ فطرت کے قانون کو نظر انداز کرکے اس دنیا میں اپنے لیے ایک کامیاب زندگی کی تشکیل کر سکے۔ فطرت کے نقشہ میں جو چیز محنت سے ملتی ہو اس کو ہم رعایت کے ذریعہ حاصل نہیں کر سکتے، جو چیز صبر کا ثبوت دے کر ملتی ہو اس کو ہم عاجلانہ اقدام کے ذریعہ نہیں پا سکتے۔ جس چیز کا ملنا امن کی طاقت کے ساتھ مقدر کیا گیا ہے اس کو ہم تشدد کی طاقت کے ذریعہ حاصل نہیں کر سکتے۔ جو چیز تدرّج کے ذریعہ ملنے والی ہو اس کو ہم چھلانگ کے ذریعہ حاصل نہیں کر سکتے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page