حکمتِ اسلام
Urdu book, p. 230
By Maulana Wahiduddin Khan
کائناتی کلچر میل ملاپ کوئی سادہ بات نہیں۔ وہ ہر قسم کی انسانی ترقی کا زینہ ہے۔ جس سماج میں لوگوں کے درمیان ملنا جلنا نہ ہو وہاں ہر ایک محدود ہو کر رہ جائے گا۔ کوئی بھی شخص یا گروہ نہ زیادہ آگے بڑھنے میں کامیاب نہیں ہو گا۔ میل ملاپ (interaction) فطرت کا قانون ہے۔ وہ ساری کائنات میں ہر طرف جاری ہے۔ درخت ایک دوسرے سے نہیں مل سکتے تو خدا نے ان کے درمیان ہوائیں چلادیں جس کے ذریعہ وہ ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ خلا کے ستارے ایک دوسرے سے بہت دور ہیں، ان کا آپس میں جسمانی طور پر ملنا ممکن نہیں، خدا نے انہیں روشنی دے دی۔ چنانچہ وہ روشنی کے ذریعہ ایک دوسرے سے مربوط ہو جاتے ہیں۔ پہاڑ کی چوٹیوں سے جاری ہونے والے چشمے سمندر سے بہت دور کتے مگر خدا نے ان کے لیے ہوا کی صورت پیدا کر دی ۔ اس طرح یہ چشمے دریاؤں میں بہتے ہوئے سمندر میں جا کر مل جاتے ہیں۔ میل ملاپ ایک یونیورسل کلچر (کائناتی طریقہ) ہے۔ یہی یونیورسل کلچر انسان کو بھی اختیار کرنا ہے۔ جس طرح بقیہ کائنات کا نظام درست طور پر باہمی ہم آہنگی کے ذریعہ چل رہا ہے، ٹھیک اسی طرح انسانی زندگی کا نظام بھی درست طور پر اس وقت چل سکتا ہے جب کہ انسان بھی اس کائناتی کلچر کو اختیار کرے (آل عمران (۸۴) دو انسان یا زیادہ انسان جب باہم ملتے ہیں تو یہ پتھروں کا باہم ملنا نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ ایسی مخلوق کا ملنا ہوتا ہے جس کے اندر دل اور دماغ والی صلاحیتیں موجود ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسانوں کا آپس میں ملنا جلنا مختلف قسم کے عظیم فائدوں کا سبب بن جاتا ہے۔ اس طرح باہمی محبت بڑھتی ہے۔ یہ عمل ذہنی ارتقاء میں مددگار بنتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے تجربات سے نئی نئی باتیں سیکھتے ہیں۔ ہر بندہ انسانیت کے مجموعی خزانے میں حصہ دار بن جاتا ہے۔ میل ملاپ صرف ایک سماجی سلوک نہیں۔ وسیع تر معنی میں ، وہ زندگی کی ایک عظیم تر حکمت ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader