حکمتِ اسلام
Urdu book, p. 231
By Maulana Wahiduddin Khan
راستہ تنگ نہیں فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کمر سے طائف جا رہے تھے۔ درمیان میں ایک پہاڑی راستہ ملا جو بڑا پر تنگ تھا۔ وہاں پہنچ کر آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ اس راستہ کا نام کیا ہے، لوگوں نے بتایا کہ اس کو تنگ راستہ کہا جاتا ہے۔ آپ نے فرمالیا کہ نہیں، بلکہ یہ آسان راستہ ہے (دہلی یونیورسٹی) اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ صحیح ہے کہ بطور واقعہ راستہ تنگ ہے۔ اگر ہم پھیل کر اس میں جانا چاہیں تو ہم نہیں جاسکیں گے لیکن ہم اس طرح اس کو آسان بنا سکتے ہیں کہ ہم سمٹ کر قطار کی صورت میں اس سے گزریں ۔ ایسی صورت میں راستہ کی تنگی ہمارے لیے رکاوٹ نہیں بنے گی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبرانہ نگاہ یہ ہے کہ تنگی کو بھی کشادگی کے روپ میں دیکھا جائے ۔ تنگی میں بھی کشادگی کا راز دریافت کیا جائے منفی باتوں میں بھی مثبت پہلو تلاش کرلیے جائیں۔ تنگی بذات خود تنگی ہے۔ راستہ کی چٹان ہر حال میں چٹان ہی رہتی ہے ۔ جو فرق ہے وہ خود تنگی یا چٹان میں نہیں ہے بلکہ اس میں ہے کہ جب کوئی تنگ راستہ سامنے آ جائے یا چٹان حائل ہو تو اس وقت طریق عمل کیا اختیار کرنا چاہیے۔ ایک طریقہ براہ راست مقابلہ کا ہے اور دوسرا اعراض کا۔ براہ راست مقابل میں تنگی اور چٹان بدستور تنگی اور چٹان بنے رہتے ہیں مگر اعراض کا طریقہ ان کے وجود کو عملی طور پر غیر موثر بنا دیتا ہے۔ جب بھی ایسا ہو کہ آپ کے سفر میں کوئی رکاوٹ پیش آجائے تو اس سے ٹکرانے پر اپنا ذہن نہ لگائیے بلکہ یہ سوچیے کہ رکاوٹ کو نظر انداز کر کے آپ کون سا ایسا حل پاسکتے ہیں جس کے بعد رکاوٹ اپنی جگہ باقی رہتے ہوئے بھی آپ کے لیے ایک غیر موجود چیز بن جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر راستہ تنگ ہی ہوتا ہے۔ تنگی اور کشادگی دونوں اضافی چیزیں ہیں۔ حقیقی چیز صرف ایک ہے اور وہ تدبیر ہے۔ اور تدبیر مکمل طور پر اور ہمیشہ مسافر کے بس میں ہوتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader