حکمتِ اسلام
Urdu book, p. 265
By Maulana Wahiduddin Khan
عقل مند کون اسلام کے دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمر فاروقؓ نے کہا کہ عقل مند وہ نہیں ہے جو خیر اور شر کو جانے بلکہ عقل مند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے خیر کون سا ہے (لیس العاقل الذی يعرف الخير من الشر ولكنه الذی يعرف خير الشرين) (العبقريات الاسلاميه للعقاد، صفحہ ۵۰۵ زندگی کا معاملہ بے حد نازک معاملہ ہے۔ یہاں ہر انسان کو آزادی ہے۔ ہر انسان اپنی اپنی دوڑ لگا رہا ہے۔ ہر انسان اپنے مقصد کے حصول میں مصروف ہے۔ اس لیے یہاں کسی کو بھی اپنے عمل کے لیے کھلا میدان نہیں ملتا۔ ہر ایک کو بھری ہوئی سڑک پر اپنا راستہ طے کرنا ہوتا ہے۔ اس صورت حال نے اس کو نا ممکن بنا دیا ہے کہ آدمی اپنی خواہش کے مطابق اپنے لیے کامل معنوں میں ایک معیاری دنیا کو پالے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی آدمی کے لیے جو انتخاب ہے وہ خیر اور شر کے درمیان نہیں ہے بلکہ اس میں ہے کہ دو شر میں سے کمتر شر کون سا ہے۔ اس دنیا میں کمتر شر پر راضی ہونا دانش مندی ہے اور کمتر شر پر راضی نہ ہو کر خیر کامل کے لیے دوڑنا ہے دانشی، کیوں کہ ایسا خیر اس دنیا میں کسی کو ملنے والا نہیں۔ کمتر شر پر راضی ہونے والا اپنے لیے عمل کا آغاز پا لیتا ہے۔ اس کا تعمیری عمل فوراً ہی شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ کمتر شر پر راضی نہ ہوں وہ غیر ضروری طور پر اس سے لڑ جائیں گے ،صرف اس لیے کہ ایک کمتر شر کو ہٹا کر دوبارہ دوسرے کمتر شر کو اپنے اوپر مسلط کر لیں اور مزید اس نقصان کو بھگتیں کہ تعمیر و ترقی کے لیے عمل کرنے کے جو مواقع انھیں حاصل تھے وہ استعمال ہوئے بغیر رہ گئے تھے۔ جو آدمی حقیقت کا گہرا شعور رکھتا ہو وہ یہی کرے گا کہ کمتر شر پر راضی ہو کر اپنی قوتوں کو مثبت تعمیر کے میدان میں لگا دے گا۔ اس کے برعکس جو لوگ گہری سوجھ بوجھ رکہتے ہوں وہ خیر کامل کے حصول کے نام پر بے معنی لڑائی چھیڑ دیں گے اور جب اس کا یہ انجام سامنے آئے گا کہ ملے ہوئے مواقع بھی ان کے ہاتھ سے نکل گئے تو وہ اپنے مفروضہ دشمنوں کی مذمت کرنے لگیں گے۔ حالانکہ جو نقصان انھیں پیش آیا ہوگا وہ خود ان کی نادانی کا نتیجہ ہوگا نہ کہ کسی دوسرے کی ظلم و زیادتی کا نتیجہ۔ ملے ہوئے پر راضی ہونا آدمی کے لیے ترقی کا دروازہ کھولتا ہے۔ جو لوگ اس حقیقت کو جان لیں وہی اس قابل ہیں کہ انھیں دانش مند کہا جائے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader