Urdu book · اسلام ایک تعارف

حکمتِ اسلام

Urdu book, p. 266

By Maulana Wahiduddin Khan

فکری توازن قرآن کی سورہ نمبر ۵۷ میں ارشاد ہوا ہے کہ کوئی مصیبت نہ زمین میں آتی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب میں لکھی ہوتی ہے ۔ اس سے پہلے کہ ہم ان کو پیدا کریں ، بے شک یہ خدا کے لیے آسان ہے ۔ تا کہ تم غم نہ کرو اس پر جو تم سے کھویا گیا اور نہ اس چیز پر فخر کرو جو اس نے تم کو دیا۔ اور خدا اترانے والے ، فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا (الحدید ۲۳ ، ۲۲) موجودہ دنیا میں آدمی کبھی محرومی سے دوچار ہوتا ہے اور اس کے زیر اثر وہ مایوسی میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح کبھی وہ کامیابی کا تجربہ کرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ گھمنڈ میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ یہ دونوں ہی صورتیں ہلاکت کی صورتیں ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی انسان کو ترقی کی طرف لے جانے والی نہیں۔ انسان جب کھوتا ہے تو وہ کیوں کھوتا ہے، اور جب وہ پاتا ہے تو وہ کیوں پاتا ہے۔ دونوں ہی کا تعلق فطرت کے نظام سے ہے۔ اصل یہ ہے کہ یہ دنیا امتحان کی مصلحت کے تحت بنائی گئی ہے۔ اس کا پورا نظام اسی مصلحت کے اصول پر قائم ہے۔ یہاں کھونے کا واقعہ بھی امتحان کا ایک پرچہ ہے، اور پانے کا واقعہ بھی امتحان کا ایک پرچہ ۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ دونوں ہی قسم کے واقعہ کو امتحان کے نقشہ میں رکھ کر سمجھے ، نہ کہ اٹھیں صرف اپنے ذاتی واقعہ کے طور پر دیکھنے لگے ۔ انسان کو جاننا چاہیے کہ اس نے جب کھویا تو اسی لیے کھویا کہ فطرت کے نقشہ میں ایسا ہی ہونا مقدر تھا۔ اسی طرح جب اس نے پایا تو اس لیے پایا کہ فطرت کے نقشہ کا تقاضا یہی تھا۔ دونوں حالتوں میں اصل کارفرما حیثیت فطرت کی ہے نہ کہ آدمی کی اپنی خواہشوں یا کوششوں کی۔ آدمی اگر اس حقیقت کو سمجھ لے تو اس کے اندر اپنے آپ یکسانیت آجاۓ گی، وہ دونوں قسم کے تجربوں کے درمیان معتدل روش پر قائم رہے گا۔ یہ عقیدہ آدمی کو اس سے بچاتا ہے کہ وہ نقصان کا تجربہ پیش آنے کی صورت میں مایوس ہو جائے، اور اس طرح وہ اپنے آپ کو غیر ضروری طور پر ایک اور نقصان میں مبتلا کر لے۔ اسی طرح یہ عقیدہ آدمی کو اس سے بچاتا ہے کہ وہ کامیابی کا تجربہ پیش آنے کی صورت میں فخر و ناز کی نفسیات میں مبتلا ہو جائے، اور اس کے نتیجہ میں وہ اپنی دنیا کو بھی تباہ کرلے اور آخرت کو بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page