حکمتِ اسلام
Urdu book, p. 267
By Maulana Wahiduddin Khan
علم و فہم حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ خدا جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو دین کا فہم عطا کر دیتا ہے (من يرد اللہ بہ خیراً يفقهہ فی الدین) بخاری و مسلم بحوالہ مشکوٰة المصابیح ، صفحہ ۷۔ اس حدیث کا تعلق محدود طور پر صرف دین سے نہیں ہے بلکہ انسانی زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی انسان کے لیے سب سے زیادہ اہمیت کی بات یہ ہے کہ اس کے اندر فہم و حکمت کی صلاحیت موجود ہو۔ فہم و حکمت کے بغیر کوئی آدمی نہ دین کے کسی معاملہ کو سمجھ سکتا ہے اور نہ دنیا کے کسی معاملہ کو۔ موجودہ دنیا کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ایک بات کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں ، یہاں ایک بات کی تشریح الگ الگ اور متضاد الفاظ میں کی جا سکتی ہے ، یہاں مختلف حقیقتیں ایک دوسرے سے اس طرح ملی جلی ہوتی ہیں کہ ان میں امتیاز کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ اس دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ ایک عمل ایک رخ سے دیکھنے میں ٹھیک نظر آتا ہے اور دوسرے رخ سے دیکھنے میں بے ٹھیک ۔ یہاں حقیقتیں اس طرح ملی جلی ہیں کہ وہ صورت پیدا ہو گئی ہے جس کو قرآن میں التباس (الانعام ۹) کہا گیا ہے۔ اس بنا پر صرف وہی شخص حقیقتوں کے بارے میں صحیح رائے قائم کر سکتا ہے جس کے اندر فہم و تدبر کی صلاحیت موجود ہو۔ زندگی میں ایک صورت پیش آئے تو عین ممکن ہے کہ ایک شخص جس کو فہم اور سوجھ بوجھ حاصل نہ ہو وہ یہ کہے کہ ہمیں بہادر بن کر اس کے خلاف اقدام کرنا چاہیے ، لیکن صاحب فہم آدمی معاملہ کی نزاکتوں کو سمجھے گا اور کہے گا کہ یہ موقع پر جوش اقدام کا نہیں ہے بلکہ خاموش تدبیر کا ہے۔ اسی طرح فہم سے خالی آدمی ایک معاملہ کو جنگ کا مسئلہ سمجھے گا جب کہ صاحب فہم کے نزدیک وہ دفاع کا مسئلہ ہوگا۔ کسی معاملہ میں فہم سے خالی آدمی کام اس کو سمجھے گا کہ وہ کھوئے ہوئے کے پیچھے دوڑے۔ اس کے برعکس صاحب فہم آدمی یہ کہے گا کہ کھونے کے بعد بھی جو کچھ حاصل ہے اس میں اپنی محنتوں کو لگاؤ۔ اس دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو فقہ وفہم کی یہ استعداد اپنے اندر رکھتے ہوں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader