حکمتِ اسلام
Urdu book, p. 268
By Maulana Wahiduddin Khan
تدبیر کار حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ـــ سب سے بہتر عقل تدبیر کرنا ہے اور سب سے بہتر پر ہیز گاری رک جانا ہے (لا عقل کا لمتد بیر ولا ورع کا کلف) ابن ماجہ، کتاب الزهد جب کوئی ناخوش گوار صورت حال پیش آئے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ جذبات سے بھڑک اٹھتے ہیں، اور فوری طور پر جوابی کارروائی شروع کر دیتے ہیں مگر یہ نہ عقل ہے اور نہ پر ہیز گاری۔ بہتر اور کامیاب طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی سوچ سمجھ کو بوجھ کو استعمال کرے اور پیش آمدہ صورت حال کے مقابلہ میں کوئی ایسی تدبیر تلاش کرے جس سے مقابلہ آرائی کے بغیر مسئلہ حل ہوتا ہو۔ کوئی مسئلہ خواہ بڑا ہو رہ کتنا ہی زیادہ سنگین نظر آتا ہو، وہ وقتی ہوتا ہے ۔ فوری نوعیت کی جوابی کارروائی صرف اس کی پیچیدگی کو بڑھاتی ہے اور اس کی مدت کو غیر ضروری طور پر لمبا کر دیتی ہے۔ اس کے برعکس تدبیر کا انداز براہ راست یا بالواسطہ انداز میں اس کی شدت کو ختم کر دیتا ہے۔ اس کو بڑھنے کے بجائے گھٹنے کی طرف ڈال کر ایسا بنا دیتا ہے کہ دھیرے دھیرے وہ اپنے آپ ختم ہو جائے۔ اسی طرح بعض اوقات ناخوش گوار صورت حال کے خلاف اقدام نہ کرنا سب سے بڑا اقدام ہوتا ہے، اور کارروائی نہ کرنا سب سے بڑی کارروائی۔ جس آدمی کے اندر سچی پر ہیز گاری موجود ہو وہ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہیں ہوگا۔ مخالف کی مخالفانہ کارروائی کے باوجود اس کے اندر انتقام کی آگ نہیں بھڑکے گی ، وہ یک طرفہ طور پر ٹھنڈا نہار ہے گا۔ اپنی اس نفسیات کی بنا پر وہ جان لے گا مجھ کو صرف یہ کرنا ہے کہ میں کچھ نہ کروں۔ میری طرف سے موثر جوابی کارروائی صرف یہ ہے کہ میں یک طرفہ طور پر خاموشی اختیار کر لوں۔ عقل آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ معاملہ کو زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھے ۔ ایسا آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ مخالفت کے توڑ کے لیے زیادہ موثر تدبیر کر سکے۔ اسی طرح جس آدمی کے اندر سچی پر ہیز گاری ہو وہ رکنے کی حکمت کو جان لیتا ہے۔ وہ اس راز سے واقف ہو جاتا ہے کہ کبھی نہ کرنے کا نام کرنا ہوتا ہے اور نہ بولنے کا نام بولنا۔ جو آدمی اپنی عقل کو صحیح طور پر استعمال کرے وہ ہر صورت حال کے مقابلہ کے لیے کوئی نہ کوئی موثر تدبیر تلاش کرے گا خواہ وہ صورت حال بظاہر کتنی ہی زیادہ سنگین کیوں نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader