حکمتِ اسلام
Urdu book, p. 269
By Maulana Wahiduddin Khan
فراست کا راز حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی فراست سے بچو کیونکہ وہ خدا کے نور سے دیکھتا ہے (اتقوا فراسة المؤمن فانه ينظر بنور الله) الترمذی، کتاب التفسير جو انسان اپنے آپ کو مادی چیزوں سے اس طرح اوپر اٹھائے کہ وہ حقیقت اعلیٰ میں جینے لگے، وہ ایک بے پناہ انسان بن جاتا ہے۔ وہ ایک ایسا انسان ہوتا ہے جو بے خطا انداز میں سوچے اور درست انداز میں منصوبہ بندی کرے، اور جس آدمی کے اندر یہ صفت پیدا ہو جائے اس کو کوئی مغلوب نہیں کر سکتا۔ موجودہ دنیا میں انسان کی ہر ناکامی غلط سوچ اور غلط منصوبہ بندی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ غلط سوچ کیا ہے، غلط سوچ یہ ہے کہ آدمی جذبات و خواہشات کے تحت سوچے، وہ محبت و نفرت کے تحت اپنی رائے قائم کرے۔ ایسے انسان کی سوچ کبھی مطابق واقعہ نہیں ہو سکتی۔ جب کہ اس دنیا میں کامیابی یہ ہے کہ آدمی کی سوچ مطابق واقعہ ہو اور اس کا عمل بھی مطابق واقعہ۔ جو آدمی اپنی خواہشات کے تحت سوچتا ہو، جو مادی مفادات کو سب سے زیادہ اہم بنائے ہوئے ہو، وہ اپنی فکر کے اعتبار سے محدود دائرہ میں بند رہتا ہے۔ اس کو اپنے احساسات کی خبر ضرورت سے زیادہ ہوتی ہے اور دوسروں کے احساسات کی خبر ضرورت سے بہت کم۔ وہ صرف اپنی ذات کی رعایت کرنا جانتا ہے، دوسروں کی رعایت کرنے سے اسے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی، ایسا آدمی دوسروں کے لیے آسان شکار بن جاتا ہے۔ وہ اپنی غیر حقیقی منصوبہ بندی کی بنا پر اپنے آپ کو اس طرح کمزور بنا لیتا ہے کہ جو بھی چاہے اس کو زیر کرلے۔ اس کے برعکس جو آدمی اپنے ذاتی خول سے باہر جی رہا ہو، جو خود فریبی کی نفسیات سے نکل کر حقائق کی دنیا میں پہنچ گیا ہو۔ ایسے آدمی کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ اس کی سوچ اور خارجی حقیقت میں کوئی تضاد نہیں ہوتا، اس کی منصوبہ بندی میں بیرونی حالات کی پوری رعایت شامل رہتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی زندگی ایسی کمزوریوں سے پاک ہوتی ہے جو دوسروں کو اس کے اوپر غلبہ پانے کا موقع دے دے۔ ایسا انسان ایک ناقابل تسخیر انسان ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader