حکمتِ اسلام
Urdu book, p. 270
By Maulana Wahiduddin Khan
دُہرا فائدہ، دُہرا نقصان قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ جو لوگ نیک عمل کریں گے ان کو خدا گنا انعام دے گا (قصص ۵۳) اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ برائی کریں گے ان کو بھی خدا ان کی برائی کی دگنا سزا دے گا (الاعراف ۳۰) قرآن میں یہ بات آخرت کے اعتبار سے کہی گئی ہے۔ آخرت انسان کے لیے ابدی انعام اور ابدی سزا کی جگہ ہے۔ وہاں کے لیے خدا نے یہ قانون مقرر کیا ہے کہ دنیا میں جو آدمی اچھا یا برا عمل کرے وہ آخرت میں اس کا دگنا بدلہ پائے۔ گویا ہر عمل کا بیک وقت دہرا پہلو ہے، خواہ وہ عمل اپنی حقیقت کے اعتبار سے اچھا ہو یا برا۔ یہی معاملہ دنیا کا بھی ہے۔ دنیا میں آدمی اگر کوئی صحیح اقدام کرے تو اس کو اپنے صحیح اقدام کا دگنا فائدہ ملے گا۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص غلط اقدام کرے تو اس کو بھی اپنے غلط اقدام کا دگنا انجام بھگتنا پڑے گا۔ یہ فطرت کا اٹل قانون ہے وہ کبھی اور کسی کے لیے بدلنے والا نہیں۔ مثلاً آپ ایک ماحول میں ہوں اور وہاں اپنے لیے ایک مطلوب زندگی حاصل کرنا چاہیں تو اس کی ایک شکل یہ ہے کہ آپ کچھ لوگوں کو اپنی راہ کی رکاوٹ سمجھ کر ان سے لڑائی شروع کردیں۔ اس قسم کا تشدد دانہ اقدام بلاشبہ ایک غلط اقدام ہوگا۔ ایسے کسی اقدام کا نتیجہ انسان کو بیک وقت دونو نقصان کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ ایک یہ کہ متشددانہ کارروائی کے نتیجہ میں ماحول کے ساتھ آپ کی جنگ شروع ہوجائے۔ آپ دوسروں کے خلاف تشدد کریں اور وہ آپ کے خلاف تشدد کریں۔ اس کے نتیجے میں یہ ہو کہ اقدام سے پہلے جو کچھ آپ کو ملا ہوا تھا اس کو بھی آپ کھودیں۔ اس قسم کی کارروائی کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ ٹکراؤ سے باہر جو تعمیری مواقع آپ کو عملاً ملے ہوئے تھے وہ سب کے سب استعمال ہونے سے رہ گئے۔ اس کے بجائے اگر آپ خاموش اور پرامن انداز میں اپنے مقصد کے حصول کی کوشش کریں تو یہ بلاشبہ ایک صحیح اقدام ہوگا اور دوبارہ آپ کو اس کا دُہرا فائدہ ملے گا۔ ایک یہ کہ آپ غیر ضروری ٹکراؤ سے بچ کر اپنے مقصد کی طرف تدریجی سفر کرتے رہیں گے۔ اسی کے ساتھ دوسرا فائدہ آپ کو یہ ملے گا کہ آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ ماحول میں موجود تعمیری امکانات کو اپنے حق میں استعمال کریں، یہاں تک کہ ایک نئے اور بہتر مستقبل کے مالک بن جائیں۔ یہ فطرت کا قانون ہے اور فطرت کے قانون میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader