Urdu book · اسلام ایک تعارف

فلاح انسانیت

Urdu book, p. 282

By Maulana Wahiduddin Khan

برائی کے جواب میں بھلائی قرآن کی سورہ نمبر ۱۳ میں کامیاب انسان کی خصوصیات بتائی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ یہ وہ لوگ ہیں جو برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں۔ آخرت کا گھر انہی لوگوں کے لیے ہے (الرعد ۲۲) اجتماعی زندگی میں جب کوئی برائی آجائے تو اس کو ایک اور برائی کے ذریعہ ختم نہیں کیا جاسکتا۔ برائی کا توڑ برائی نہیں ہے بلکہ برائی کا توڑ بھلائی ہے۔ یہی اس دنیا کے لیے خدا کا مقرر کیا ہوا قانون ہے، اور خدا کے قانون میں تبدیلی ممکن نہیں۔ رات کے وقت جب زمین پر تاریکی چھا جاتی ہے تو اس کو ہٹانے کے لیے کائنات ایسا نہیں کرتی کہ وہ تاریکیوں کا لشکر لے آئے اور اس کے ذریعہ سے رات کے اندھیرے کو دور کرنے کی کوشش کرے۔ اس کے برعکس کائنات صرف یہ کرتی ہے کہ وہ روشن سورج کو اس کے سامنے کر دیتی ہے۔ اس کے بعد اپنے آپ ایسا ہوتا ہے کہ اندھیرا چلا جاتا ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے اور انسان کی کامیابی بھی اسی میں ہے کہ وہ فطرت کے اس نقشہ کو اپنی زندگی میں اختیار کرے اگر وہ برائی کو دور کرنا چاہتا ہے تو اس کے جواب میں بھلائی کا عمل کرے ۔ اس معاملہ میں یہی واحد طریقہ ہے، اس کے سوا کوئی اور طریقہ عملی طور پر ممکن نہیں۔ کوئی آدمی آپ کے خلاف کڑوا بول بولے تو آپ اس کے جواب میں میٹھا بول بولئے ۔ اس کے بعد فریق ثانی اپنے آپ شرمندہ ہو کر خاموش ہو جائے گا۔ کڑوے بول کے مقابلہ میں میٹھا بول گویا مسئلہ کو بالواسطہ طور پر حل کرنا ہے۔ اور اس دنیا میں بالواسطہ تبدیلی ہمیشہ مؤثر ہوتی ہے نہ کہ براہ راست تبدیلی۔ غصہ کا جواب غصہ نہیں ہے بلکہ معافی ہے۔ اشتعال انگیزی کا جواب مشتعل ہونا نہیں ہے بلکہ چپ رہنا ہے۔ تشدد کا جواب تشدد نہیں ہے بلکہ پرامن روش اختیار کر لینا ہے۔ ٹکراؤ کا جواب ٹکراؤ نہیں ہے بلکہ اعراض ہے۔ جنگ کا جواب جنگ نہیں ہے بلکہ گفت و شنید ہے۔ نفرت کا جواب نفرت نہیں ہے بلکہ محبت و شفقت ہے۔ بے عزتی کا جواب دوبارہ بے عزتی نہیں ہے بلکہ احترام کا سلوک کرنا ہے۔ یہی اس دنیا میں کامیاب زندگی کا واحد طریقہ ہے۔ دوسرے طریقے تباہی کی طرف لے جانے والے ہیں نہ کہ کامیابی کی طرف لے جانے والے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page