فلاح انسانیت
Urdu book, p. 288
By Maulana Wahiduddin Khan
خدائی یاد دہانی قرآن کی سورہ نمبر ۶۳ میں ارشاد ہوا ہے کہ ۔ اے ایمان والو ، تمہارے مال اور تمہاری اولاد تم کو خدا کی یاد سے غافل نہ کرنے پائیں اور جو ایسا کرے گا تو وہی گھاٹے میں پڑنے والے لوگ ہیں (المنافقون 9) ضمیر خدا کی یاد دہانی ہے۔ ہر انسان کے سینے میں ایک ضمیر ہے جو گویا کہ خدا کی آواز ہے۔ یہ ضمیر ہر موقع پر یاد دلاتا ہے کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا ہے۔ کیا چیز خدا کی پسند کے مطابق ہے اور کیا چیز خدا کی پسند کے خلاف۔ یہ خدائی یاد دہانی ہر موقع پر انسان کو متنبہ کرتی رہتی ہے اس کے باوجود انسان کیوں غلط روش اختیار کرتا ہے۔ اس کا سبب مال اور اولاد کی محبت ہے۔ انسان مال اور اولاد کے ساتھ اپنی بڑھی ہوئی محبت کی بنا پر خدا کی یاد دہانی کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ خدائی پسند کو جان لینے کے باوجود وہ اس کے خلاف چلنے لگتا ہے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ بلاشبہ گھاٹا اٹھانے والے لوگ ہیں۔ انھوں نے خدا کی زمین میں سرکشی کی۔ ایسے لوگ خدا کی سزا کے مستحق ہیں نہ کہ خدا کے انعام کے۔ موجودہ دنیا میں انسان کے لیے درست روش کیا ہے ، اور وہ کون سا راستہ ہے جو اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچانے والا ہے۔ وہ یہ ہے کہ جب بھی اس کو خدا کی یاد دہانی پہنچے اس کا سینہ خدائی آواز سے گونجے تو وہ فوراً اس پر دھیان دے۔ وہ کھلے دل کے ساتھ اس کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کرے۔ مال ، اولاد یا کسی بھی دوسری چیز کو وہ اس معاملے میں رکاوٹ نہ بننے دے۔ انسان کے اندر پیدائشی طور پر محبت کا جذبہ ہے۔ مثلاً مال اور اولاد کی محبت۔ محبت کا یہ جذبہ آزمائش کے لئے رکھا گیا ہے۔ وہ اس لئے نہیں ہے کہ آدمی جس چیز کی محبت اپنے دل میں پائے وہ اس چیز کی طرف دوڑپڑے ۔ بلکہ وہ اس لئے ہے کہ غیر خدا سے محبت کے باوجود خدا کو نہ بھولے ۔ غیر خدا کی کشش کے باوجود وہ اپنی ساری توجہ خدا کی طرف لگادے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader