Urdu book · اسلام ایک تعارف

فلاح انسانیت

Urdu book, p. 289

By Maulana Wahiduddin Khan

ناپ تول میں فرق قرآن کی سورہ نمبر ۸۳ میں ارشاد ہوا ہے کہ خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔ جو کہ لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیں تو گھٹا کر دیں۔ کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ وہ اٹھائے جانے والے ہیں ایک بڑے دن کے لیے جس دن تمام لوگ خداوند عالم کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ (المطففین ۱-۳) کسی سماج میں سب سے زیادہ برے کردار والے وہ لوگ ہیں جن کا حال یہ ہو کہ جب وہ دوسروں سے کوئی چیز لے رہے ہوں تو پوری طرح ناپ کر اور تول کر لیں۔ لیکن جب انھیں دوسروں کو دینا ہو تو وہ کم ناپیں اور کم تولیں۔ ان کے پاس اپنے لیے ایک ترازو ہو اور بقیہ لوگوں کے لیے دوسرا ترازو۔ اس کردار کا تعلق صرف تجارتی ناپ اور تول سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ مثلاً جو لوگ ایسا کریں کہ جب وہ اپنا تذکرہ کریں تو وہ ہمیشہ اپنی اچھائیاں اور خوبیاں بیان کریں، اور جب وہ دوسروں کا تذکرہ کریں تو وہ صرف ان کی برائیوں کو لیں اور سماج میں انہی کا چرچا کریں۔ اپنے بارے میں ان کا معیار یہ ہو کہ ہر جگہ میری تعریف کی جائے، اور دوسروں کے بارے میں ان کا معیار یہ ہو کہ لوگ ان کو ان کی بری صفات کے ساتھ جانیں۔ جو لوگ ایسا کریں کہ جب اپنی ذات کا معاملہ ہو تو وہ اپنی برائیوں کو چھپائیں اور اپنی اچھائیوں کو نمایاں کریں۔ اور جب دوسروں کا معاملہ ہو تو وہ ان کی اچھائیوں کو نظر انداز کر دیں اور صرف ان کی برائیوں کو بیان کریں۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں نہایت برے ہیں۔ خدا کی رحمت میں حصہ پانے والے نہیں۔ جس سماج میں ایسے لوگ پائے جائیں وہ پورے سماج کو گندا کر دیں گے۔ اس لیے کہ اگر ایک مجلس میں وہ اپنی اچھائی بیان کر رہے ہوں گے تو دوسری مجلس میں انہی جیسا ایک آدمی ان کی برائی بیان کر رہا ہو گا۔ اس طرح ہر آدمی لوگوں کی نظر میں مشتبہ ہو جائے گا۔ ایسے سماج سے حسن ظن اور اعتماد کی فضا ختم ہو جائے گی۔ لوگوں کے اندر ایک دوسرے کے لیے احترام باقی نہیں رہے گا۔ اور جس سماج میں ایسا ہو جائے وہ سماج کسی کے لیے بھی رہنے کے قابل نہیں، حتی کہ اس کے لیے بھی نہیں جو صبح سے شام تک اپنی تعریف بیان کرتا رہتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page