Urdu book · اسلام ایک تعارف

فلاح انسانیت

Urdu book, p. 290

By Maulana Wahiduddin Khan

پاکیزہ زندگی قرآن کی سورہ نمبر ۹۱ میں ارشاد ہوا ہے کہ _ کامیاب ہوا وہ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا اور ناکام ہوا وہ جس نے اپنے نفس کو آلودہ کیا (قد افلح من زكاها وقد خاب من دساها) الشمس ۱ - ۹ موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں انسان کے لیے بیک وقت دو امکانات چھپے ہوئے ہیں _ اپنے اندر پاکیزہ اخلاقی شخصیت تعمیر کرنے کا امکان، یا پھر اپنی شخصیت کو اخلاقی حیثیت سے آلودہ کر لینے کا امکان۔ یہ دونوں امکانات ہر شخص کے لیے اور ہر حال میں موجود ہیں۔ جس آدمی نے ان امکانات کو ایک پہلو سے استعمال کیا اس نے اپنے آپ کو کامیاب بنالیا۔ اور جس نے ان امکانات کو دوسرے پہلو سے استعمال کیا اس نے اپنے آپ کو ناکام بنالیا۔ موجودہ دنیا طرح طرح کے حالات سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں بار بار مختلف قسم کے انسانوں سے سابقہ پڑتا ہے۔ انہی حالات و واقعات کے درمیان انسانی شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے ۔ مثلاً آپ کے ساتھ وقتی طور پر نقصان کا ایک واقعہ پیش آیا۔ اب اگر اس واقعہ کو آپ مستقل واقعہ سمجھیں تو آپ صرف دل شکستہ ہو کر رہ جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر آپ اس کو صرف ایک وقتی واقعہ سمجھیں تو آپ بدستور حوصلہ اور ہمت کے ساتھ اپنا کام جاری رکھیں گے۔ اسی طرح کچھ لوگوں نے آپ کے خلاف اشتعال انگیزی کر دی۔ اس کے بعد اگر آپ بھڑک اٹھے تو آپ نے اپنی یکسوئی میں خلل ڈالا اور اگر آپ صبر و تحمل کے ساتھ اس کا سامنا کریں تو گویا آپ نے اپنی ذہنی یکسوئی کو برقرار رکھا۔ اسی طرح کبھی آدمی محسوس کرتا ہے کہ اس کے آس پاس کے لوگ اس کو اہمیت نہیں دے رہے ہیں۔ ایسا واقعہ اگر اس کو احساس کمتری میں مبتلا کر دے تو اس کی صلاحیتیں ٹھٹھ کر رہ جائیں گی۔ اس کے برعکس اگر وہ اس معاملہ کو اپنی ناقص تیاری پر محمول کرے تو وہ اس واقعہ سے مزید عمل کی غذا لے گا اور زیادہ محنت کر کے مستقبل میں اس چیز کو پالے گا جس کو وہ حال میں پائے ہوئے نہیں تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page