Urdu book · اسلام ایک تعارف

فلاح انسانیت

Urdu book, p. 291

By Maulana Wahiduddin Khan

حسن اخلاق حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ـــــ خدا کے نزدیک تول میں حسن اخلاق سے زیادہ باوزن کوئی اور چیز نہیں (عن ابی الدرداء عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال ما من شيء أثقل في الميزان من حسن الخلق) سنن ابی داؤد ، کتاب الادب، باب فی حسن الخلق۔ اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ زندگی کے فطری نقشہ میں سب سے اہم چیز اچھا اخلاق ہے۔ اچھا اخلاق انسانیت کا حسن ہے۔ کسی انسان کی انسانیت جب اپنی اعلیٰ صورت میں ظاہر ہوتی ہے تو اسی کا نام حسن اخلاق ہے۔ دریا کا حسن اس کی روانی میں ہے۔ پھول کا حسن اس کی خوشبو میں ہے ۔ باغ کا حسن اس کی ہریالی اور تر و تازگی میں ہے۔ اسی طرح انسان کا حسن یہ ہے کہ وہ جب لوگوں سے معاملہ کرے تو اس کے ہر معاملہ میں بہتر اخلاق کی شان موجود ہو۔ حسن اخلاق یہ ہے کہ آپ جب کسی سے بات کریں تو آپ کی زبان سے میٹھا بول نکلے خواہ دوسرے شخص نے آپ کو کڑوے الفاظ کا تحفہ دیا ہو۔ آپ جب لوگوں سے لین دین کریں تو آپ کا لین دین بد معاملگی سے خالی ہو ، آپ کسی کی مدد کریں تو آپ اس پر احسان نہ جتائیں ، کوئی آپ سے اپنا حق مانگے تو آپ اس سے سرکشی نہ کریں۔ جب بھی اور جہاں بھی آپ کا سابقہ لوگوں کے ساتھ پیش آئے تو آپ کی ہر روش میں تواضع کا انداز موجود ہو۔ خوش اخلاقی دوسروں کی رعایت کرنے کا نام ہے اور بد اخلاقی اپنی رعایت کرنے کا نام۔ جو آدمی صرف اپنے آپ میں جیتا ہو، جس کو صرف اپنے فائدوں اور مصلحتوں کی خبر ہو، اس کا اخلاقی سلوک خود پسندی پر قائم ہوگا۔ اس کے برعکس جو آدمی اپنے دل میں دوسروں کی خیر خواہی لیے ہوئے ہو، جو دوسروں کے احترام کا جذبہ رکھتا ہو، جو دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کو اپنا فرض سمجھتا ہو، اس کا ہر قول اور ہر عمل حسن اخلاق کے رنگ میں رنگا ہوا ہوگا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کا مجموعہ دنیا میں اچھا معاشرہ بناتا ہے ، اور یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں جنت کے باغوں میں داخل کیے جائیں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page