فلاح انسانیت
Urdu book, p. 292
By Maulana Wahiduddin Khan
رحمت والا سماج صحیح بخاری میں روایت ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رحم اللہ رجلاً سمحاً إذا باع واشترى وإذا اقتضى (یعنی خدا اس انسان پر رحم فرمائے جو نرمی اختیار کرے جب کہ وہ خریدے اور بیچے اور تقاضا کرے ۔ اس حدیث میں براہ راست طور پر تاجر کا ذکر ہے مگر بالواسطہ طور پر اس کا تعلق تمام انسانوں سے ہے۔ یہ حدیث اس عام انسانی رویے کو بتاتی ہے جو اس کو سماجی زندگی میں اختیار کرنا چاہیے۔ وہ رویہ یہ ہے کہ آدمی ہر معاملے میں نرم مزاج ہو۔ جب وہ سوچے تو مخالفانہ انداز میں نہ سوچے بلکہ خیر خواہی کے انداز میں سوچے ۔ جب وہ بولے تو اس کا بول کڑوا نہ ہو بلکہ میٹھا بول ہو، جب وہ لوگوں سے معاملہ کرے تو اس کے رویے میں کڑا پن نہ ہو بلکہ لچک ہو۔ خرید و فروخت کے وقت وہ دوسروں کی رعایت کرنے والا ہو حتیٰ کہ جب دوسروں کے اوپر اس کا قرض ہو تو وہ قرض کی وصولیابی میں سختی کا انداز اختیار نہ کرے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو حقیقی انسان کہا جا سکتا ہے۔ جس سماج میں ایسا مزاج رکھنے والے انسان ہوں وہ سماج رحمت کا سماج ہوگا، ایسے سماج میں انسانیت پرورش پائے گی ، ایسے سماج میں لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ اپنے حقوق سے زیادہ وہ دوسروں کے حقوق کا لحاظ کریں گے ، ایسے سماج کے افراد لوگوں کے درمیان پھول کی طرح رہیں گے نہ کہ کانٹے کی طرح ۔ اگر ایک فرد ایسا ہو تو اس فرد کو اپنی ذات کی سطح پر خدا کی رحمت ملے گی ۔ اور اگر سماج کے بہت سے لوگ اس قسم کا نرم مزاج رکھتے ہوں تو پورا سماج خدا کی رحمتوں اور برکتوں کے سائے میں آ جائے گا۔ نرم مزاج والا انسان ہی سچا انسان ہے ، جس انسان کے مزاج میں کڑا پن ہو وہ گویا کہ چلتا پھرتا پتھر ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی انسان ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader