فلاح انسانیت
Urdu book, p. 293
By Maulana Wahiduddin Khan
انسانی برابری حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ:— اے لوگو! کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں، اور کسی عجمی کو کسی عربی پر فضیلت نہیں، اور کسی سفید فام کو سیاہ فام پر فضیلت نہیں، اور کسی سیاہ فام کو سفید فام پر فضیلت نہیں، سوادین اور تقویٰ کے (لا فضل لعربی علی عجمی ولا لعجمی علی عربی ولا لا احمر علی اسود ولا لا سود علی احمر الا بالدین وتقویٰ) مسند احمد تمام انسانوں کا خالق ایک ہے۔ تمام انسان ایک ہی ابتدائی ماں اور باپ سے پیدا ہوئے ہیں اس لیے تمام انسان یکساں ہیں۔ تمام انسان آپس میں خونی بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ظاہری طور پر دیکھنے میں مختلف انسانی نسلوں کے درمیان فرق نظر آتا ہے مثلاً رنگ کا فرق، ان میں کوئی سیاہ فام ہے اور کوئی سفید فام۔ مگر اس طرح کے تمام فرق صرف ظاہر کے اعتبار سے ہیں۔ حقیقت کے اعتبار سے ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ انسانی برابری کا یہ تصور خدائی شریعت کے مطابق بھی ہے اور فطرت کے مطابق بھی۔ مزید یہ کہ تمام انسانوں کو برابر کا درجہ دے کر ہی بہتر سماج بن سکتا ہے۔ جس سماج میں لوگوں کو برابر کا درجہ نہ دیا گیا ہو وہ سماج کبھی امن اور خوش حالی کا سماج نہیں بن سکتا۔ ایسے سماج میں ابدی طور پر بے چینی جاری رہے گی۔ ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان فرق کی بنیاد نسل اور رنگ اور زبان نہیں ہے بلکہ کردار ہے۔ جو آدمی کردار اور اخلاق میں اونچا ہے وہی درجہ کے اعتبار سے بھی اونچا ہے۔ اور جو آدمی کردار اور اخلاق کے اعتبار سے بلند نہ ہو وہ انسانیت کے اعتبار سے بھی بلند نہیں، خواہ اس نے بظاہر کتنا ہی خوش نما لباس اپنے جسم کے اوپر ڈال رکھا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader