فلاح انسانیت
Urdu book, p. 294
By Maulana Wahiduddin Khan
ظلم نہیں حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام نے بتایا کہ خدا نے یہ فرمایا ہے کہ۔ اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے اور تمہارے درمیان بھی آپس میں ظلم کرنا حرام ٹھہرلیا ہے پس تم لوگ ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو ( عن ابی ذر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فيما روى عن الله تبارك وتعالى أنه قال يا عبادی انی حرمت الظلم على نفسی و جعلته بينكم محرماً فلا تظالموا) صحیح مسلم کتاب البروالصلة و الادب ظلم فطرت کے نقشہ کے خلاف ہے۔ کائنات میں بے شمار چیزیں ہیں۔ مگر اس کا کوئی جز اس کے دوسرے جز پر ظلم نہیں کرتا۔ یہ فطرت کا ماڈل ہے جو خدا نے کائنات میں قائم کیا ہے۔ انسان کو بھی چاہیے کہ وہ اسی ماڈل کو اپنائے۔ انسانی سماج میں بھی اس کا کوئی فرد اس کے دوسرے فرد پر زیادتی نہ کرے ۔ جس طرح وسیع تر سطح پر کائنات کے مختلف اجزار ایک دوسرے پر زیادتی نہیں کرتے۔ ظلم یا زیادتی کیا ہے۔ وہ ہے اپنی حد سے تجاوز کرنا، اپنے واجبی حق سے زیادہ کا طالب بننا، اپنے فائدہ کے لیے دوسرے کا نقصان کرنا۔ اس قسم کا ہر عمل فطرت کے نقشہ میں اجنبی ہے، وہ خدا کا مطلوب عمل نہیں۔ ہر انسان کو آزادی ہے کہ وہ دنیا میں اپنی ترقی کا عمل جاری کرے مگر اس کی ایک لازمی شرط ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کی سرگرمیاں دوسرے کے لیے نقصان کا باعث نہ بنیں ۔ خلا کا ہر ستارہ اور سیارہ مسلسل گردش کر رہا ہے ۔ مگر ہر ایک کی گردش اپنے مقرر مدار میں ہے ، کوئی بھی ستارہ یا سیارہ اپنے مدار سے باہر نہیں نکلتا۔ یہی اصول ہے جس نے خلا کے ستاروں اور سیاروں کو باہمی ٹکراؤ سے بچارکھا ہے۔ ٹھیک یہی اصول انسان سے بھی مطلوب ہے۔ اپنے دائرہ میں محدود رہتے ہوئے عمل کرنا عین جائز ہے ، اور اپنے دائرہ سے نکل کر دوسروں کے دائرہ میں سرگرمیاں دکھانا عین ناجائز ۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف رویے ہیں، دونوں کا انجام یکساں ہونا ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader