Urdu book · اسلام ایک تعارف

فلاح انسانیت

Urdu book, p. 295

By Maulana Wahiduddin Khan

حرص کا نقصان حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دو بھوکے بھیڑیئے جو بکریوں میں چھوڑ دیے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتے جتنا کہ کسی انسان کا مال کے لیے حریص ہو جانا۔ وما ذئبان جائعان أرسلا في غنم بأفسد لها من حرص المرء (على المعالي) جامع الاصول فی احادیث الرسول ۶۲۸/۳ حرص قناعت کی ضد ہے۔ حرص یہ ہے کہ آدمی ملے ہوئے پر راضی نہ ہو وہ مسلسل زیادہ حاصل کرنے کی کوشش میں لگا رہے یہاں تک کہ اسی حال میں اس کا انتقال ہو جائے۔ مادی سازو سامان کی تین حدیں ہیں ــــ ضرورت، راحت اور تعیش۔ ابتداً آدمی صرف یہ چاہتا ہے کہ ضرورت کے بقدر اس کو سامان دنیا حاصل ہو جائے۔ جب اس کو ضرورت کے بقدر مادی سازو سامان مل جاتا ہے تو اس کے بعد وہ اس حد پر نہیں رکتا اب وہ راحت کے حصول میں لگ جاتا ہے۔ وہ اپنی ساری کوشش اسی کی راہ میں لگا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے کہ اس کو راحت و آرام والی چیزیں حاصل ہو جاتی ہیں مگر وہ یہاں بھی نہیں رکتا اس کی حرص اب اس کو عیش و عشرت کا طالب بنا دیتی ہے۔ وہ عیش کے سامان جمع کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے جو کبھی ختم ہونے والے نہیں۔ آدمی کی سعادت اس میں ہے کہ وہ ضرورت پر قناعت کرے۔ وہ اس سے زیادہ کا حریص نہ بنے ، اگر وہ ضرورت کی حد پر نہیں رکے گا تو اس کے بعد اس کے لیے کوئی حد آنے والی نہیں حتی کہ عیش و عشرت کے تمام سامان اکٹھا کر لینے کے بعد بھی اس کو اطمینان حاصل نہیں ہوگا اب وہ اقتدار کا طالب بن جائے گا، اور اقتدار کی طلب ایک ایسی افیون ہے جو آدمی کو صرف نشہ دیتی ہے، وہ کسی بھی درجے میں اس کو سکون عطا نہیں کرتی ۔ کامیاب انسان وہ ہے جس کا دل حرص سے پاک ہو۔ جو کم پر راضی ہو جائے، جو زندگی کے اعلیٰ مقاصد میں زیادتی کا طالب ہو نہ کہ دنیوی اور مادی سازوسامان میں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page