فلاح انسانیت
Urdu book, p. 296
By Maulana Wahiduddin Khan
بہتر لوگ بہتر لوگ کون ہیں ۔ حدیثِ رسول کے مطابق، لوگوں میں بہتر لوگ وہ ہیں کہ جب ان کو حق دیا جائے تو وہ اس کو قبول کر لیں ، اور جب ان سے حق مانگا جائے تو وہ اس کو دے دیں۔ اور وہ لوگوں کے بارہ میں وہی فیصلہ کریں جو فیصلہ وہ اپنے بارے میں کرتے ہیں ( الذین اذا اعطوا الحق قبلوه واذا سئلوه بذلئوه وحكموا لناس كحكمهم لانفسهم) مسند احمد یہ صفتیں جس انسان میں ہوں وہی بہتر انسان ہے۔ اور جس سماج کے افراد میں یہ صفتیں پائی جائیں وہی سماج بہتر سماج ہے، اور نتیجہ کے اعتبار سے کامیاب سماج ۔ ایسے لوگوں کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ حق کو قبول کرنے والے ہوتے ہیں۔ جب کبھی ان کے سامنے کوئی سچائی آتی ہے، جب بھی ان سے کوئی معقول بات کہی جاتی ہے ، جب بھی انھیں ان کا کوئی فرض یاد دلایا جاتا ہے تو وہ فوراً اس کو ماننے کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں۔ وہ حق کو ہمیشہ حق کی صورت میں دیکھتے ہیں اور نا حق کو ہمیشہ نا حق کی صورت میں۔ اس لیے انھیں اس میں دیر نہیں لگتی کہ وہ نا حق کو پہچان کر اسے چھوڑ دیں اور حق کو پہچان کر دل کی آمادگی کے ساتھ اسے اپنا لیں۔ ان کی دوسری صفت یہ ہے کہ جب بھی ان کے اوپر کسی کا کوئی حق آتا ہو اور اس حق کا ان سے تقاضا کیا جائے تو وہ حق کو حق داری کی طرف لوٹانے میں دیر نہیں لگاتے۔ جب ان کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلائی جائیں تو کسی بھی نفسیاتی رکاوٹ کے بغیر وہ اس کو مان لیتے ہیں اور بلا تاخیر اپنے آپ کو اس کی ادائیگی میں لگا دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی تیسری صفت یہ ہے کہ وہ اصول کے معاملہ میں اپنے اور غیر کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ ان کا انصاف کا ترازو جس طرح دوسروں کو تولتا ہے اسی طرح وہ خود انھیں بھی تولتا ہے۔ جس چیز کو وہ دوسروں کے لیے انصاف سمجھتے ہیں اسی کو وہ خود اپنے لیے بھی انصاف سمجھتے ہیں۔ وہ ہر ایک کو یکساں نظر سے دیکھتے ہیں۔ اور ہر ایک کے ساتھ یکساں معیار کے تحت معاملہ کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader