Urdu book · اسلام ایک تعارف

فلاح انسانیت

Urdu book, p. 302

By Maulana Wahiduddin Khan

نیکی اور بدی حدیث میں آیا ہے کہ۔ تو اس ابن سمعان انصاری نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور بدی کے بارہ میں پوچھا۔ آپ نے جواب دیا ، نیکی حسن اخلاق کا نام ہے اور بدی وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تمہیں نا پسند ہو کہ لوگ اس سے باخبر ہوں (عن النواس ابن سمعان الانصاری قال سألتُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن الـبـر والاثـم فقـال الـبـر حسن الخلق والاثم ماحاث في صدرك وكرهت أن يطلع عليـه الـنـاس) صحيح مسلم کتاب البر والصلة والادب سماج کا بہترین شہری کون ہے۔ یہ وہ انسان ہے جس کی فطرت زندہ ہو اور اس کے اندر نیکی اور بدی کا احساس موجود ہو۔ وہ ہر معاملہ میں نیکی کے رخ پر چلے اور بدی کی روش سے اپنے آپ کو دور رکھے۔ نیکی اور بدی کا شعور انسان کے لیے کوئی اجنبی چیز نہیں ہے۔ وہ انسان کی فطرت میں پیدائشی طور پر موجود ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو ضمیر کہا جاتا ہے۔ ضمیر ہر انسان کے اندر گویا فطرت کا معلم ہے۔ انسان اگر اپنے ضمیر کی آواز کو نہ دبائے تو وہی اس کی رہنمائی کے لیے کافی ہو جائے گی۔ ضمیر کے زندہ ہونے کی پہچان یہ ہے کہ آدمی جب نیکی کرے تو اس پر خوشی حاصل ہو۔ سچ بولنا، امانت کو ادا کرنا، پڑوسی کا حق ادا کرنا، دوسروں کی خدمت کرنا، یہ سب نیکی کے عمل ہیں۔ باضمیر انسان جب اس قسم کا کوئی عمل کرتا ہے تو اس کی یہ نقد قیمت اس کو ملتی ہے کہ اس کا دل سکون و اطمینان سے بھر جاتا ہے۔ بدی والے اعمال کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ آدمی جب کوئی غلط کام کرتا ہے تو ایسا کام کرنے کے لیے اس کو اپنے ضمیر کے خلاف چلنا ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بدی کا کام کرکے آدمی کو خوشی نہیں ہوتی۔ بدی کا کام اس کے دل کے بوجھ کو اور زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ ایک طرف اس کا دل ساتھ نہیں دیتا اور دوسری طرف اس کو یہ اندیشہ لگا رہتا ہے کہ کہیں دوسرے لوگ اس سے باخبر نہ ہو جائیں جس کے نتیجہ میں اس کو شرمندگی اٹھانی پڑے۔ نیکی کا نقد فائدہ دل کا سکون ہے اور بدی کا نقد انجام دل کی بے سکونی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page